معاشرتی بگاڑ

معاشرتی بگاڑ
معاشرہ ایک دن میں نہیں بگڑتا۔ اس کے بگاڑ کی کوئی ایک تاریخ، کوئی ایک واقعہ اور کوئی ایک ذمہ دار شخص نہیں ہوتا۔ معاشرتی بگاڑ ایک خاموش عمل ہے جو بہت آہستہ آہستہ ہماری زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ ابتدا میں کوئی چھوٹی سی تبدیلی محسوس ہوتی ہے، پھر وہ تبدیلی معمول بن جاتی ہے، معمول قبولیت حاصل کر لیتا ہے اور بالآخر وہی چیز معاشرے کے رویے کا حصہ بن جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ معاشرہ بدل چکا ہے تو اکثر بہت کچھ پہلے ہی بدل چکا ہوتا ہے۔کبھی ہمارے ہاں کچھ باتیں ایسی تھیں جنہیں کرنے سے پہلے انسان اپنے خاندان، بزرگوں اور معاشرے کے سامنے شرمندگی محسوس کرتا تھا۔ اب مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ باتیں ہونے لگی ہیں، بلکہ یہ ہے کہ بعض اوقات ان پر شرمندگی بھی باقی نہیں رہی۔ کسی کی تضحیک کرنا تفریح بن گیا، کسی کی نجی زندگی میں مداخلت معمول بن گئی، کسی کی عزت اچھالنا اظہارِ رائے سمجھا جانے لگا، بلند آواز کو دلیل اور بدتمیزی کو بے باکی کا نام دیا جانے لگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاشرتی بگاڑ صرف رویے میں نہیں رہتا بلکہ زبان، سوچ اور ترجیحات میں بھی اترنے لگتا ہے۔
کسی معاشرے کی اصل حالت اس کی بلند و بالا عمارتوں، شاہراہوں یا بازاروں کی رونق سے نہیں جانی جا سکتی۔ معاشرہ دراصل اس وقت پہچانا جاتا ہے جب ایک طاقتور شخص کے سامنے کمزور کھڑا ہو، جب ایک بچہ اپنی بات کہنے کی کوشش کرے، جب ایک بزرگ کو مدد کی ضرورت ہو، جب کوئی غریب شخص عزت کے ساتھ جینا چاہے، جب دو افراد اختلافِ رائے میں مبتلا ہوں اور جب کسی انسان کی غلطی سب کے سامنے آجائے۔ ایسے مواقع پر ہمارا رویہ بتاتا ہے کہ ہم نے تہذیب کو واقعی زندگی کا حصہ بنایا ہے یا صرف الفاظ میں محفوظ رکھا ہے۔معاشرتی بگاڑ کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے بہت سی چیزوں کو “زمانے کے ساتھ چلنے کا نام دے کر ان پر سوال اٹھانا چھوڑ دیا ہے۔ ہر نئی چیز ترقی نہیں ہوتی اور ہر پرانی چیز فرسودہ نہیں ہوتی۔ ترقی وہ ہے جو انسان کو بہتر بنائے، اس کے شعور میں اضافہ کرے، اس کی آزادی کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی بڑھائے اور اس کے تعلقات میں احترام پیدا کرے۔ اگر سہولت بڑھ رہی ہو لیکن برداشت کم ہو رہی ہو، معلومات بڑھ رہی ہوں لیکن حکمت کم ہو رہی ہو، رابطے بڑھ رہے ہوں لیکن رشتے کمزور ہو رہے ہوں، اظہار کے ذرائع بڑھ رہے ہوں لیکن گفتگو کا معیار گر رہا ہو تو پھر ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ ہم ترقی کر رہے ہیں یا صرف تیزی سے بدل رہے ہیں۔آج انسان کے پاس پہلے سے کہیں زیادہ رابطے ہیں، مگر تنہائی بھی کم نہیں ہوئی۔ موبائل فون نے فاصلے کم کیے، لیکن بعض گھروں میں ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے افراد ایک دوسرے سے زیادہ اپنی اسکرینوں کے ساتھ مصروف نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو بولنے کا موقع دیا، مگر ہر بات سننے کا حوصلہ نہیں دیا۔ اپنی زندگی دکھانے کا شوق بڑھا، دوسروں کی زندگی سے موازنہ بڑھا، اور پھر خوشی بھی ایک ایسی چیز بننے لگی جسے جینا کم اور دکھانا زیادہ ضروری محسوس ہونے لگا۔دکھاوے کی یہ ثقافت بھی معاشرتی بگاڑ کا ایک خاموش دروازہ ہے۔ انسان اب صرف یہ نہیں دیکھتا کہ اس کے پاس کیا ہے، وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ دوسروں کو اس کے بارے میں کیا نظر آ رہا ہے۔ لباس، گاڑی، گھر، تقریبات، سفر، کھانے اور حتیٰ کہ خوشی کے لمحات بھی بعض اوقات حقیقی تجربے سے زیادہ نمائش کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ اس دوڑ میں وہ شخص بھی شامل ہو جاتا ہے جو اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرتا ہے تاکہ معاشرہ اسے کمزور نہ سمجھے۔ یوں مصنوعی معیارِ زندگی حقیقی معاشی مشکلات کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔معاشرتی بگاڑ صرف امیر اور غریب کے درمیان فرق کا نام بھی نہیں۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان دوسرے انسان کی قدر اس کی دولت، لباس، عہدے، اثر و رسوخ یا سماجی حیثیت سے کرنے لگے۔ پھر انسانیت پیچھے اور حیثیت آگے آ جاتی ہے۔ ایک غریب کی بات کم اہم محسوس ہوتی ہے، ایک معمولی ملازم کو عزت دینے میں تکلف ہوتا ہے، ایک مزدور کو انسان کے بجائے صرف اپنی ضرورت پوری کرنے والا ہاتھ سمجھا جاتا ہے اور ایک بااثر شخص کی غلطی بھی بعض اوقات اس کے اثر و رسوخ کے نیچے چھپ جاتی ہے۔
اس بگاڑ کی جڑیں گھر تک بھی پہنچتی ہیں۔ خاندان معاشرے کی پہلی درس گاہ ہے۔ بچہ کتاب سے پہلے گھر کے رویے پڑھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ والدین ایک دوسرے سے کیسے بات کرتے ہیں، بزرگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہوتا ہے، اختلاف کیسے حل کیا جاتا ہے، ملازم سے کس لہجے میں بات کی جاتی ہے اور غلطی کرنے والے کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتا ہے۔ اگر گھر میں احترام صرف طاقتور کے لیے اور سختی صرف کمزور کے لیے ہو تو بچہ الفاظ سے نہیں، رویوں سے ایک ایسا سبق حاصل کرتا ہے جو بعد میں معاشرے میں واپس آتا ہے۔ہم نے تربیت کا ایک حصہ شاید اسکول، موبائل فون اور معاشرے کے سپرد کر دیا ہے۔ والدین مصروف ہیں، بچے مصروف ہیں، گھر میں گفتگو کم اور اسکرین کا وقت زیادہ ہے۔ سوالات پوچھنے، سننے، سمجھانے اور کردار بنانے کے لیے جو وقت درکار تھا وہ آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نئی نسل معلومات تو بہت جلد حاصل کر لیتی ہے، لیکن ہر معلومات کو پرکھنے، ہر آزادی کے ساتھ ذمہ داری سمجھنے اور ہر خواہش کے ساتھ حدود پہچاننے کی تربیت ہمیشہ اسی رفتار سے نہیں ملتی۔
نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں، لیکن نوجوانوں کو صرف نصیحت کی ضرورت نہیں، انہیں ایک ایسا ماحول بھی چاہیے جس میں انہیں اپنی صلاحیت کے اظہار، سوال کرنے، اختلاف کرنے اور آگے بڑھنے کے باوقار مواقع ملیں۔ جب نوجوان کو معاشرے میں تضاد نظر آتا ہے—زبان پر کچھ اور، عمل میں کچھ اور—تو اس کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ جب اسے میرٹ کی جگہ تعلق، محنت کی جگہ سفارش اور کردار کی جگہ ظاہری کامیابی نظر آئے تو اس کے ذہن میں کامیابی کی تعریف بھی بدل سکتی ہے۔
تعلیم بھی معاشرتی بگاڑ سے الگ نہیں۔ تعلیم اگر صرف امتحان پاس کرنے، ڈگری لینے اور ملازمت حاصل کرنے کا ذریعہ رہ جائے اور انسان سازی، شہری ذمہ داری، اختلافِ رائے، برداشت، تحقیق، سوال اور کردار سازی اس سے الگ ہو جائیں تو ایک پڑھی لکھی مگر غیر ذمہ دار نسل بھی وجود میں آ سکتی ہے۔ کتاب انسان کو معلومات دیتی ہے، مگر تربیت اسے معلومات کے استعمال کا شعور دیتی ہے۔ یہی فرق معاشرے کے مستقبل پر اثر انداز ہوتا ہے۔عدم برداشت نے بھی ہماری اجتماعی گفتگو کو متاثر کیا ہے۔ اختلاف کبھی مکالمے کا آغاز ہوا کرتا تھا، اب بعض اوقات دشمنی کا سبب بن جاتا ہے۔ کسی سے سیاسی اختلاف ہو تو ذاتی حملہ، کسی سے مذہبی اختلاف ہو تو نفرت، کسی سے فکری اختلاف ہو تو کردار کشی اور کسی کی رائے پسند نہ آئے تو اسے سننے سے پہلے مسترد کر دینا یہ رویے معاشرے میں مکالمے کی جگہ تصادم پیدا کرتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص صرف اپنی بات سننا چاہے، آخرکار اجتماعی فیصلوں کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔زبان بھی معاشرتی صحت کا پیمانہ ہوتی ہے۔ ہم جس انداز سے بات کرتے ہیں، وہ ہمارے اندر کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔ گالی، طنز، تضحیک، تحقیر اور مسلسل منفی گفتگو اگر عام ہو جائے تو معاشرہ آہستہ آہستہ سخت مزاج ہوتا جاتا ہے۔ پھر نرم لہجہ کمزوری، معذرت شکست اور برداشت بے وقوفی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ تبدیلی بظاہر معمولی لگتی ہے، لیکن یہی معمولی تبدیلیاں اجتماعی مزاج تشکیل دیتی ہیں۔معاشرتی بگاڑ کا ایک اور خطرناک مرحلہ اس وقت آتا ہے جب لوگ اچھے کردار کو غیر معمولی سمجھنے لگیں۔ اگر کوئی شخص اپنا کام ایمانداری سے کرے تو لوگ حیران ہوں، اگر کوئی دکاندار صحیح ناپ دے تو اسے مثال بنا کر بتایا جائے، اگر کوئی صاحبِ اختیار کسی غریب کے ساتھ احترام سے پیش آئے تو یہ خبر بن جائے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس مقام تک پہنچ چکے ہیں جہاں بنیادی انسانی اور اخلاقی رویے غیر معمولی محسوس ہونے لگے ہیں؟
اصل خطرہ برائی کے پھیلنے سے بھی زیادہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب برائی کے خلاف معاشرتی حساسیت ختم ہو جائے۔ ایک غلط بات پہلی بار سن کر انسان چونکتا ہے، دوسری بار اعتراض کرتا ہے، تیسری بار اسے نظر انداز کرتا ہے اور کچھ عرصے بعد وہی چیز معمول محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی معمول بننے کا عمل معاشرتی بگاڑ کی سب سے خاموش لیکن طاقتور شکل ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ معاشرہ صرف قانون سے درست نہیں رہتا۔ قانون ضروری ہے، ادارے ضروری ہیں، نگرانی ضروری ہے، لیکن ہر انسان کے ساتھ ایک ایسا داخلی احساس بھی ہونا چاہیے جو اسے یہ بتائے کہ کون سا عمل درست ہے اور کون سا غلط۔ جب ہر غلط کام کے لیے قانون کے پکڑے جانے کا خوف درکار ہو تو اس کا مطلب ہے کہ اخلاقی ذمہ داری کمزور ہو رہی ہے۔معاشرتی بگاڑ کا مطلب یہ نہیں کہ معاشرے میں اچھے لوگ باقی نہیں رہے۔ ہر دور میں بے شمار ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں، دوسروں کا خیال رکھتے ہیں، اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور اپنے کردار سے معاشرے کو سہارا دیتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اچھائی اکثر خاموش رہتی ہے جبکہ برائی شور پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ معاشرہ مکمل طور پر بگڑ چکا ہے، حالانکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ معاشرے کی بہت سی اچھی بنیادیں اب بھی زندہ ہوتی ہیں، مگر انہیں مضبوط کرنے کے بجائے ہم اکثر منفی رویوں کو زیادہ نمایاں کر دیتے ہیں۔اس لیے بگڑتا معاشرہ” محض شکایت کا عنوان نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہونا چاہیے جس میں ہم اپنے زمانے کے بدلتے ہوئے چہرے کو دیکھ سکیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری ترجیحات کیا بن چکی ہیں، ہم اپنی اولاد کو کیا سکھا رہے ہیں، ہم کامیابی کی تعریف کیسے کرتے ہیں، ہم اختلاف کرنے والے کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں، ہم کمزور انسان کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کن رویوں کو اتنی بار دہرا چکے ہیں کہ اب وہ ہمیں غلط محسوس ہی نہیں ہوتے۔معاشرہ اس وقت نہیں بگڑتا جب چند لوگ غلط راستے پر چلتے ہیں؛ معاشرہ اس وقت بگڑنے لگتا ہے جب غلط راستہ دیکھنے والے لوگ اسے معمول سمجھنے لگتے ہیں۔ پھر خاموشی رضامندی میں بدلتی ہے، رضامندی روایت میں بدلتی ہے اور روایت اگلی نسل کی تربیت کا حصہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں معاشرتی بگاڑ فرد کی زندگی سے نکل کر نسلوں کے رویے میں داخل ہونے لگتا ہے۔شاید ہمیں اپنے زمانے کی سب سے بڑی خرابی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے بہت سی چیزوں کو اتنی بار دیکھا ہے کہ اب ہمیں ان پر حیرت نہیں ہوتی۔ ہمیں حیرت تب ہونی چاہیے جب انسان انسان کی عزت نہ کرے، جب بچہ خوف میں جئے، جب خاندان محبت کے بجائے مفاد کا مرکز بن جائے، جب اختلاف نفرت بن جائے، جب دکھاوا حقیقت سے زیادہ اہم ہو جائے اور جب اچھا انسان اپنے اچھے ہونے کی وجہ سے خود کو اس معاشرے میں اجنبی محسوس کرنے لگے۔معاشرتی بگاڑ کا علاج کسی ایک تقریر، ایک قانون یا ایک دن کی مہم میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ بگاڑ اگر برسوں میں ہماری عادتوں، ترجیحات اور رویوں میں داخل ہوا ہے تو اسے سمجھنے کے لیے بھی ہمیں سطحی شور سے آگے دیکھنا ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو آنے والی نسلوں کے حوالے کرتے وقت اس میں کیا چھوڑ کر جا رہے ہیں؛ صرف عمارتیں، سڑکیں، ٹیکنالوجی اور معلومات، یا ایسا انسانی کردار بھی جو ان سب چیزوں کو درست سمت میں استعمال کرنا جانتا ہو؟
شاید معاشرتی بگاڑ کی سب سے خطرناک علامت یہ نہیں کہ برائیاں موجود ہیں؛ دنیا میں کبھی کوئی معاشرہ برائی سے مکمل خالی نہیں رہا۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ برائی ہمیں بری محسوس ہونا چھوڑ دے۔ جب غلط کو غلط کہنے کی ہمت کم ہو جائے، جب اچھائی پر حیرت ہونے لگے، جب احترام کو کمزوری اور بدتمیزی کو طاقت سمجھا جانے لگے، جب انسان کی قدر اس کے کردار کے بجائے اس کی حیثیت سے ہونے لگے، تو پھر ہمیں یقیناً رک کر اپنے معاشرے کے بدلتے ہوئے چہرے کو دیکھنا چاہیے۔کیونکہ معاشرے اچانک نہیں بگڑتے، وہ روزانہ تھوڑا تھوڑا بگڑتے ہیں۔ اور شاید اسی حقیقت میں ایک خاموش امید بھی چھپی ہے کہ اگر بگاڑ روزانہ کے چھوٹے رویوں سے تشکیل پاتا ہے تو معاشرے کی اصل شناخت بھی روزانہ کے چھوٹے رویوں ہی سے دوبارہ بن سکتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اپنے زمانے کے اس موڑ پر کھڑے ہو کر کس سمت دیکھ رہے ہیں—اور جب ہماری آنے والی نسلیں ایک دن ہم سے پوچھیں گی کہ تم نے اپنے دور میں معاشرے کو کس حال میں دیکھا تھا، تو ہمارے پاس ان کے سوال کا کیا جواب ہوگا؟

Comments

No comments yet. Why don’t you start the discussion?

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *