
ترکی اسلحہ درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ تک کا قابل ذکر سفر
ترکی کی دفاعی صنعت کا موجودہ عروج کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی، مستقل سرمایہ کاری اور واضح قومی وژن کا نتیجہ ہے۔ چند دہائیوں قبل تک ترکی بنیادی طور پر امریکہ، جرمنی اور دیگر NATO اتحادیوں سے اسلحہ درآمد کرتا تھا، لیکن آج یہ ملک اپنی جدید ترین لڑاکا طیاروں، جنگی ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کی پیداوار کے ساتھ دنیا کے اہم دفاعی برآمد کنندگان میں شامل ہو چکا ہے۔ تاریخی پس منظر: درآمد کا دور
سرد جنگ کے دوران ترکی بنیادی طور پر امریکہ پر انحصار کرتا تھا۔ F-4 اور F-16 طیارے، M60 ٹینک اور مختلف قسم کے ہلکے اسلحہ درآمد کیے جاتے تھے۔ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ترکی کی فوجی طاقت کا بیشتر حصہ باہر سے درآمد شدہ اسلحہ پر مشتمل تھا۔
اس انحصار کے متعدد نقصانات تھے:- سیاسی پابندیوں کا خطرہ (جیسے 1975 میں امریکی اسلحہ پابندی)- ہتھیاروں کی ترسیل میں تاخیر- تکنیکی طور پر دوسروں کے محتاج ہونا- بھاری زرمبادلہ کا خرچ تبدیلی کا آغاز: 1980 کی دہائی
1985 میں ترک دفاعی صنعت کے انڈسٹریل کمیٹی (SSB) کی بنیاد ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس کا بنیادی مقصد مقامی دفاعی پیداوار کو فروغ دینا تھا۔ ابتدائی مراحل میں لائسنس کے تحت پیداوار پر توجہ مرکوز کی گئی:
– F-16 طیاروں کی ترکی میں ہی اسمبلی
– M60 ٹینکوں کاجدید کاری گولہ بارود کی مقامی پیداوار
اصل تبدیلی: 2000 کے بعد کی حکمت عملی 21ویں صدی میں ترکی نے دفاعی خود انحصاری کو قومی سلامتی کا لازمی جزو قرار دیا۔ اس سمت میں اہم اقدامات:
حکمت عملیک وژن اور قوانین قومی دفاعی صنعت کے لیے حکمت عملیک منصوبہ” کے تحت 2007 میں اہداف طے کیے گئے کہ دفاعی ضروریات کا 50% مقامی صنعت سے پورا کیا جائے۔ تحقیق و ترقی پر زور
دفاعی تحقیق و ترقی کے بجٹ میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔ 2002 میں R&D پر خرچ 5.4 بلین ڈالر تھا جو 2020 تک 10 گنا بڑھ گیا۔
نجی شعبے کی شرکت
ASELSAN, ROKETSAN, BAYKAR, TUSAŞ جیسی کمپنیوں کو سرکاری معاونت فراہم کی گئی۔ شاندار کامیابیاں: ترکی کے دفاعی شعبے کے ستارے
بیرکت TB2 ڈرون ایک عالمی کامیابی- 2014 میں پہلی بار استعمال- 25 سے زیادہ ممالک کو برآمد- یوکرین-روس جنگ میں اہم کردار- نسبتاً کم قیمت اور اعلیٰ کارکردگی
T129 ATAK ہیلی کاپٹر- ترکی اٹلی کا مشترکہ منصوبہ- پاکستان، فلپائن اور دیگر ممالک کو برآمد- مشکل موسمی حالات میں موثرALTAY ٹینک اور TCG انادولو بحری جہاز – جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ مقامی ڈیزائن- بحریہ کی طاقت میں اضافہ مستقبل کے منصوبے: TF-X کا لڑاکا طیارے- پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ- 2023 میں پہلی پرواز
– ترکی کی فضائیہ کی مستقبل کی ریڑھ کی ہڈی عالمی پہچان
ترکی نے دفاعی برآمدات میں قابل ذکر ترقی کی- 2002: دفاعی برآمدات صرف 248 ملین ڈالر- 2021: 3.2 بلین ڈالر سے تجاوز- 2023: 5.5 بلین ڈالر کے ہدف کا تعین- ترکی کے ڈرونز کے خریداروں میں یوکرائن، پولینڈ، مراکش، ایتھوپیا شامل ہی- بحرین، سعودی عرب، پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک اہم شراکت دار
ترکی کا یہ سفر آسان نہیں تھا ابتدائی طور پر جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی امریکہ سے F-35 پروگرام سے خارج کیے جانے کا صدمہ معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود دفاعی بجٹ برقرار رکھنا امریکہ، روس، چین جیسی طاقتوں سے مقابلہ کامیابی کے اہم اسباب تمام سیاسی جماعتوں کا دفاعی خود انحصاری پر متفق ہونا اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئرز اور تکنیکی ماہرین حکمت عملیک یوکرائن، پاکستان، اذربائیجان جیسے ممالک کے ساتھ تعاون شام، عراق اور دیگر محاذوں پر اسلحے کے تجربات نسبتاً کم قیمت اور موثر اسلحے کی پیشکش
مستقبل کے خواب
ترکی 2023 میں اپنے 100 سالہ جشن کے موقع پر دفاعی برآمدات 10 بلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔ TF-X لڑاکا طیارہ، ملی ڈرون حملے کے نظام، اور خلائی دفاعی نظام مستقبل کی ترجیحات ہیں۔
ترکی کا دفاعی شعبہ درآمد کنندہ سے برآمد کنندہ بننے کا سفر ایک ایسی کہانی ہے جس میں قومی وژن، حکمت عملیک منصوبہ بندی، اور ٹیکنالوجی کی خود انحصاری کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ترکی کی فوجی طاقت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ اس کے عالمی اثر و رسوخ، اقتصادی استحکام، اور تکنیکی صلاحیتوں کو بھی بڑھاتی ہے۔ ترکی کا تجربہ دیگر ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ مناسب حکمت عملی اور عزم کے ساتھ دفاعی خود انحصاری کا حصول ممکن آج ترکی نہ صرف ہے۔ دفاعی ضروریات پوری کر رہا ہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں ایک اہم کھلاڑی بن کر ابھرا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ترک قوم جدید ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔
