
گلگت بلتستان کے ضلع استور کے علاقے برزل پاس میں سڑک سے برف ہٹانے کے آپریشن کے دوران برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے کیپٹن اور محکمہ تعمیرات عامہ کے مشین آپریٹر سمیت 3 اہلکار شہید ہوگئے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق 2 اور 3 جنوری کی درمیانی شب برزل پاس پر آپریشنل نقل و حرکت یقینی بنانے کے لیے بھاری مشینری کی مدد سے برف ہٹانے کا آپریشن کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس آپریشن کا مقصد علاقے میں اپنی افواج کی مؤثر آمد و رفت کو ممکن بنانا تھا، برف ہٹانے کے اس آپریشن کی قیادت کیپٹن اسمد کر رہے تھے 3 جنوری کو تقریباً رات دو بجے، جب آپریشن جاری تھا کہ اچانک برفانی تودہ گرنے کے باعث کیپٹن اسمد، دو سپاہی اور محکمہ تعمیرات عامہ(پی ڈبلیو ڈی) کا ایک سویلین مشین آپریٹر برف میں دب گئے مزید بتایا گیا کہ شدید اور مسلسل کوششوں کے بعد چاروں افراد کو برف سے نکال لیا گیا، تاہم کیپٹن اسمد، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسٰی کی حالت بگڑ گئی اور تینوں نے جام شہادت نوش کیا آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ان عظیم شہدا نے انتہائی خراب موسمی حالات مدیں
اس ایک نہایت مشکل آپریشن کی قیادت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تاکہ افواج کی آپریشنل نقل و حرکت کو یقینی بنایا بیان میں کہا گیا کہ ان کی قربانی اور فرض شناسی اس امر کی روشن مثال ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے تمام رینکس مادر وطن کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں اور قومی فرض کی ادائیگی میں جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے آپ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے ضلع استور کے علاقے برزل پاس میں سڑک سے برف ہٹانے کے آپریشن کے دوران برفانی تودہ گرنے سے پاک فوج کے کیپٹن اور محکمہ تعمیرات عامہ کے مشین آپریٹر سمیت 3 اہلکار شہید ہو گئے۔
آپ چاہتے ہیں کہ اسے نئے انداز میں انسانی طرز پر لکھا جائے۔ اس میں جذبات اور واقعات کو پرکشش بنانا ہوگا تاکہ قاری محسوس کر سکے۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ ایک المناک واقعہ ہے جس میں بہادری اور قربانی شامل ہے۔ آپ شاید چاہتے ہیں کہ یہ تحریر صرف خبر نہ رہے بلکہ ایک کہانی بن جائے جو دل کو چھو لے۔مجھے اس واقعے کے اہم پہلوؤں پر غور کرنا چاہیے: برفانی طوفان میں کام کرنا، اچانک حادثہ، بچانے کی کوششیں، اور پھر شہادت۔ ان عناصر کو جذباتی زبان میں پیش کرنا ہوگا۔میں اسے کسی ایسے شخص کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کروں گا جو وہاں موجود تھا۔ سردی کی شدت، اندھیرا، مشینوں کی آوازیں، اور پھر اچانک خاموشی۔ یہ سب قاری کو واقعے کا حصہ بنا سکتا ہے۔
آپ شاید چاہتے ہیں کہ یہ تحریر ان شہیدوں کی قربانی کو سراہے اور ان کی خدمات کو یاد رکھے۔ میں ان کے کام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالوں گا کہ یہ صرف برف ہٹانا نہیں بلکہ فوجی نقل و حرکت کو ممکن بنانا تھا۔آخر میں، میں ان کی بہادری اور وطن کے لیے محبت کا ذکر کروں گا تاکہ قاری ان سے محبت کرے اور ان کی قربانی کو یاد رکھے۔ یہ تحریر صرف ایک خبر نہیں بلکہ ایک خراج تحسین بن جائے۔
برفانی دلدل میں ڈٹے ہوئے ہیرو: برزل پاس میں قربانی کی داستان
گلگت بلتستان کے پہاڑوں میں ایک رات، جب ساری دنیا گہری نیند میں سوئی ہوئی تھی، برزل پاس کی برفانی چوٹیوں پر کچھ ہیرو اپنی ڈیوٹی پر ڈٹے ہوئے تھے۔ 2 اور 3 جنوری کی درمیانی شب، جب درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کہیں نیچے تھا اور برفانی طوفان کا خطرہ منڈلا رہا تھا، پاک فوج اور محکمہ تعمیرات عامہ کے کچھ بہادر اہلکار سڑک سے برف ہٹانے کے مشکل اور خطرناک آپریشن میں مصروف تھے۔ان کی قیادت کر رہے تھے نوجوان اور پرعزم کیپٹن اسمد۔ ان کا مقصد واضح تھا: انتہائی خراب موسمی حالات میں بھی اس اہم راستے کو کھلا رکھنا تاکہ افواج کی آپریشنل نقل و حرکت جاری رہ سکے۔ بھاری مشینری کی گڑگڑاہٹ کے درمیان وہ اور ان کے ساتھی اپنے فرض پر ڈٹے رہے۔ پھر اچانک، تقریباً رات دو بجے، قدرتی قہر نے اپنا مظاہرہ کیا۔ ایک زبردست برفانی تودہ اچانک گر پڑا، جس نے کیپٹن اسمد، دو بہادر سپاہیوں اور محکمہ تعمیرات عامہ کے مشین آپریٹر عیسٰی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ لمحے برف کی سفید موت میں دفن ہو گئے۔
ریسکیو ٹیموں نے شدید سردی اور خطرناک حالات کے باوجود بے مثال ہمت کا مظاہرہ کیا۔ مسلسل کوششوں کے بعد چاروں کو برف سے نکال لیا گیا، لیکن افسوس کہ وقت نے ساتھ نہ دیا۔ کیپٹن اسمد، سپاہی رضوان اور مشین آپریٹر عیسٰی نے اپنی آخری سانسیں وہیں لیں، فرض کی راہ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے۔
یہ تینوں ہیرو انتہائی مشکل حالات میں اپنے فرض سے پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے دفاع اور استحکام کے لیے ہمارے عوام اور افواج کے جواں مرد ہر وقت تیار رہتے ہیں، چاہے اس کے لیے انہیں کتنی ہی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔
ان شہیدوں کی قربانی ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ وطن کی خدمت اور حفاظت کا جذبہ کسی موسم یا خطرے سے بالاتر ہوتا ہے۔ ہمارے یہ ہیرو جام شہادت نوش کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ شہداء کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
