
اٹلی کے شہر میلان میں پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ان دعوؤں کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جس میں اطالوی شہریوں پر الزام ہے کہ اُنھوں نے نوے کی دہائی میں جنگ کے دوران ’سنائپر سفاری‘ کے لیے بوسنیا ہرزیگووینا کا سفر کیا۔
اطالوی شہریوں اور بعض دیگر پر یہ الزام ہے کہ اُنھوں نے محاصرہ زدہ شہر سارایوو میں شہریوں پر گولی چلانے کے لیے بڑی رقم ادا کی۔
میلان میں یہ شکایت صحافی اور ناول نگار ایزیو گوازینی نے درج کرائی تھی جن کا دعویٰ ہے کہ ہتھیاروں کے شوقین ’بہت امیر افراد‘ نے سارایوو کی پہاڑیوں میں سربین پوزیشنز سے ’نہتے شہریوں کو مارنے کے لیے‘ بڑی رقم ادا کی۔
بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مردوں، خواتین اور بچوں کو مارنے کے لیے الگ الگ ریٹ مقرر کیے گئے تھے۔
لگ بھگ چار برس تک سارایوو میں جاری رہنے والے بدترین محاصرے کے دوران 11 ہزار سے زائد افراد مارے گئے تھے۔
جنگ کی وجہ سے یوگوسلاویہ کے حصے بخرے ہو گئے تھے اور یہاں مسلسل گولہ باری اور سنائپر فائر کے متعدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ’انسانی شکاریوں‘ کے بارے میں اس نوعیت کے الزامات گذشتہ برسوں میں متعدد بار سامنے آتے رہے ہیں۔ لیکن گوازینی کے جمع کیے گئے شواہد میں بوسنیا کی فوج کے ایک انٹیلی جنس افسر کی گواہی بھی شامل ہے۔
اب اٹلی کے انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر الیسانڈرو گوبس اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں جن میں قتل کے الزامات بھی شامل ہیں۔
