
رنگ بدلتا ہے آسماں کیسے کیسے
تحقیقاتی رپورٹ کیا جنرل فیض حمید کے کورٹ مارشل کے بعد نئے طوفان کا آغاز ہوگا؟ ایک سخت فیصلہ ہوا سزا سنائی گئی، لیکن یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ جنرل (ر) فیض حمید کو عمر قید کی سزا کا فیصلہ دراصل ایک باب کا اختتام اور نئے ابواب کا آغاز معلوم ہوتا ہے۔ قابل اعتماد ذرائع سے ملنے والی معلومات اور زیرِ گردش شواہد بتاتے ہیں کہ فیض حمید کا موجودہ کورٹ مارشل محض ایک پہلا قدم ہے۔نئی تحقیقات کا دائرہ: 9 مئی 2023 اور اس کے بعد
معلومات کے مطابق فوجی و سول ایجنسیاں 9 مئی 2023 کے المناک واقعات کی تفتیش میں نئی جہتوں پر کام کر رہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس دن کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور انتظامیہ میں ممکنہ طور پر کچھ ایسے افراد شامل تھے جن کا تعلق اعلیٰ فوجی و سول حلقوں سے تھا۔
مبصرین کے مطابق، 9 مئی کے واقعات صرف ایک احتجاج نہیں، بلکہ ایک منظم کارروائی تھی جس میں ریاستی علامات کو نشانہ بنایا گیا۔ اب تحقیقات اس نکتے کی طرف مرکوز ہیں کہ کیا اس منصوبہ بندی میں کوئی اندرونی معاونت موجود تھی۔ اور اگر تھی تو اس کی نوعیت کیا تھی؟
2018 کے عدالتی فیصلے ایک نیا پہلو
اس سے بھی زیادہ حساس معاملہ 2018 کے ان عدالتی فیصلوں کا ہے جو اب زیرِ بحث ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ایک خفیہ کمیٹی 2018 میں ہونے والے کچھ اہم عدالتی فیصلوں میں ممکنہ مداخلت یا دباؤ کے شواہد اکٹھا کر رہی ہے۔
خصوصاً اس دور کے کچھ اہم سیاسی کیسز جن کا تعلق انتخابی نااہلی اور دیگر معاملات سے تھا ان میں غیر معمولی عدالتی عمل کو پرکھا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ان فیصلوں کے پیچھے کسی قسم کی ہدایات یا غیر رسمی مشاورتی عمل کارفرما تھا؟ کون ہو سکتے ہیں نئے افراد جن کی تحقیقات ہو سکتی ہے؟
ذرائع کے مطابق تحقیقات کے دائرے میں درج ذیل اقسام کے افراد شامل ہو سکتے 2018 میں اہم فیصلے دینے والے کچھ ججوں کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان پر یہ الزام عائد کیا جا سکتا ہے کہ وہ کسی دباؤ یا لالچ میں غیر جانبدارانہ فیصلے نہ کر سکے۔
دونوں اطراف کے کچھ سیاستدان جن کا تعلق اس دور کی حکومتی مشینری سے تھا، ان کی ممکنہ طور پر ان فیصلوں میں معاونت یا خاموشی تحقیقات کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس دور کے کچھ بیوروکریٹس جو عدالتی عمل میں ممکنہ مداخلت کے ذرائع بن سکتے تھے، ان کے بارے میں بھی معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔جنرل فیض حمید کا دوسرا کورٹ مارشل ایک ممکنہ صورت حال ماہرین فوجی قانون کے مطابق، اگر نئی تحقیقات میں فیض حمید کا نام دوبارہ سامنے آتا ہے تو ان کے خلاف نئے الزامات میں دوسرا کورٹ مارشل ممکن ہے۔ خاص طور پر اگر یہ ثابت ہو جائے کہ انہوں نے 2018 کے عدالتی عمل یا 9 مئی کی منصوبہ بندی میں کوئی کردار ادا کیا تھا۔
تاہم یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔ نئے شواہد کی بنیاد پر پہلے سے سزا یافتہ شخص کے خلاف نئی کارروائی قانونی پیچیدگیوں سے بھری ہوئی ہے۔ کیا یہ سب ممکن ہے؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا واقعی یہ تمام تحقیقات حتمی شکل اختیار کر سکتی ہیں؟ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس سارے عمل کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ موجودہ حکومتی و فوجی قیادت کس حد تک ان تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
نئے کیسز کی کامیابی اس بات پر منحصر ہوگی کہ کتنا ٹھوس ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے۔ محض افواہوں یا مخالفین کے بیانات کافی نہیں ہوں گے۔ اس قسم کے حساس معاملات میں عدالتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر اگر سینئر عدالتی شخصیات ملوث ہوں۔
عوام کس حد تک ان تحقیقات کو قبول کرتی ہے، یہ بھی اہم ہوگا۔ ایک طویل قانونی جنگ کا آغاز
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ جنرل فیض حمید کی عمر قید کی سزا محض ایک طویل قانونی اخلاقی اور سیاسی جنگ کا پہلا میدان ہے۔ آنے والے مہینوں میں ہم نئی تحقیقات نئے انکشافات اور ممکنہ طور پر نئی گرفتاریاں دیکھ سکتے ہیں۔
لیکن اس سب کے پیچھے سب سے بڑا سوال یہ ہے: کیا پاکستان واقعی اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں احساسِ ذمہ داری کی نئی ثقافت پروان چڑھ رہی ہے؟ یا یہ محض اقتدار کی سیاست کا ایک نیا چکر ہے؟ آنے والا وقت ہی اس کا جواب دے گا۔
فی الحال ایک بات واضح ہے: یہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ نئے ابواب لکھے جا رہے ہیں، اور ہر نیا دن نئی حیرت لے کر آ سکتا ہے۔
(یہ رپورٹ معلومات مختلف ذرائع سے حاصل کر کے تیار کی گئی ہے)۔ حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کی طرف سے ہی کی جا سکتی ہے۔
