
ریاستِ امب دریائے سندھ کے پانیوں میں ڈوبا ہوا ورثہ
دریائے سندھ کے کنارے، پہاڑوں کے دامن میں بسا ہوا ایک چھوٹا سا خودمختار علاقہ تھا جس کا نام ’ریاست امب‘ تھا۔ یہ وہ خطہ تھا جہاں تاریخ نے اپنے پورے جلال و اُستقامت کے ساتھ سانس لی تھی۔ دربند کے تاریخی قلعے سے لے کر فرید آباد کی جدید بستیوں تک، یہاں ہر پتھر، ہر راستہ اور ہر عمارت کچھ کہانی سناتی محسوس ہوتی تھی۔
مگر وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کے نام پر بننے والے تربیلا ڈیم نے اس پوری تہذیب کو اپنی آغوش میں لے لیا۔ پانیوں کی سطح بلند ہوئی تو اس نے نہ صرف زمینوں کو، بلکہ صدیوں پر محیط ثقافتی ورثے کو بھی نگل لیا۔ وہ شاندار قلعے جن میں ریاست کے محافظ پہرہ دیتے تھے، وہ ہرے بھرے باغات جن میں پھلوں کے درختوں کی مہک بسی تھی، وہ قدیم حویلیاں جن کے صحنوں میں قہقہے گونجتے تھے، اور وہ عدالتی عمارتیں جہاں سے کبھی کبھار ’نواب‘ کے خلاف بھی انصاف کے فیصلے صادر ہوتے تھے — سب کے سب آج پانی کی تہہ میں خاموش ہیں۔
تاہم، ڈیم کے پانیوں کے نیچے دبے اس ورثے کی یادیں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ دربند کے ڈوبے ہوئے اس تاریخی مقام کی لہریں جب اُبھرتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کا پردہ ہل جاتا ہے اور ماضی کی تصویریں ذہنوں میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں کے باسیوں کا یہ یقین ہے کہ اگرچہ ریاست کی جغرافیائی سرحدیں پانیوں میں ڈوب گئی ہیں، مگر اس کی روح، اس کے قوانین، اور اس کی انفرادیت آج بھی ان کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ اپنی روایات، اپنی کہانیوں اور اپنے قانونی نظام کو نسل در نسل منتقل کرتے آئے ہیں — یہ سب ان کی شناخت کا حصہ ہے جو پانیوں کے نیچے نہیں ڈوب سکا۔ریاست امب کا یہ ڈوبا ہوا ورثہ صرف ایک علاقے کا المیہ نہیں، بلکہ اس خطے کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم باب ہے جو آج بھی زندہ ہے اور اس خطے کے لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے ہوئے ہے۔
