امریکی بحریہ نے دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین جنگی بحری جہاز یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کو بحیرہ کریبین کے پانیوں میں تعینات کر دیا


امریکی بحریہ نے دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین جنگی بحری جہاز یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کو بحیرہ کریبین کے پانیوں میں تعینات کر دیا ہے۔ اس اقدام کو خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس تعیناتی سے کریبین کے حساس علاقے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات ہیں۔ یہ علاقہ جو بحر اوقیانوس میں جزائر غرب الہند اور وسطی امریکا کے درمیان واقع ہے، پہلے ہی غیر معمولی فوجی سرگرمیوں کا مشاہدہ کر رہا تھا۔

امریکی بحریہ کے ترجمان کے مطابق یہ جنگی جہاز جنوبی کمانڈ کے دائرہ کار میں داخل ہو چکا ہے اور لاطینی امریکہ سمیت کریبین خطے پر نظر رکھے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ محض تین ہفتے قبل ہی امریکی سیکرٹری آف ڈیفنس نے اس علاقے میں اس جنگی جہاز کی تعیناتی کا حکم جاری کیا تھا۔

یہ عمل اس وقت سامنے آیا ہے جب گذشتہ کئی دہائیوں کے بعد امریکہ نے کریبین میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ شروع کیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ نے منشیات کی اسمگلنگ کے شبے میں متعدد چھوٹے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان کارروائیوں میں 75 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم، امریکہ نے ان چھوٹے جہازوں کے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش نہیں کیے ہیں، نہ ہی ہلاکتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی ہیں۔

یو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ کی آمد سے پہلے ہی اس خطے میں امریکہ کے دیگر جنگی جہاز، جوہری صلاحیت سے لیس آبدوزیں اور جدید ترین ایف 35 لڑاکا طیارے متحرک تھے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ امریکہ اس خطے میں اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *