
جنرل فیض حمید کو عمر قید کی سزا
( آئی ایس پی آر) پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل (ر) فیض حمید کو مختلف کیس ثابت ہونے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ فیصلہ منگل کو فیلڈ کورٹ مارشل فوجی عدالت کے اجلاس میں سنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق، جنرل (ر) فیض حمید پر 4 مختلف الزامات ثابت ہوئے جس کے بعد عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنائی۔ فوجی عدالت کے فیصلے کے مطابق انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے، جس کے ساتھ ساتھ ان پر مالی جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
یہ کیس گزشتہ کئی ماہ سے فوجی عدالت میں زیر سماعت تھا، جس میں تفصیلی کارروائی کے بعد یہ فیصلہ سنا گیا۔ فوجی عدالت نے مقدمے کی سماعت کے دوران تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد یہ فیصلہ دیا ہے۔
جنرل (ر) فیض حمید 2019 سے 2021 تک پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹیلی جنس سروس (آئی ایس آئی) کے سربراہ رہے، جبکہ اس کے بعد وہ کور کمانڈر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد فوجی حلقوں میں خاموشی چھائی ہوئی ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ حلقوں نے اس فیصلے کو قانون کی بالادستی کا ثبوت قرار دیا ہے، تو وہیں کچھ حلقے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، جنرل (ر) فیض حمید کو سزا سنانے کے بعد فوجی حراست میں رکھا گیا ہے اور انہیں جلد ہی کسی جیل میں منتقل کیا جائے گا۔
فوجی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے، لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ دفاعی طرف سے اپیل کی جائے گی یا نہیں۔
یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع نہیں ہے جب کسی سینئر فوجی افسر کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ہو، لیکن سابق آئی ایس آئی سربراہ کی حیثیت سے یہ ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے ملکی اور بین الاقوامی حلقوں میں دور رس اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، جبکہ اسے پاکستان میں احتساب کے عمل میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
خبر کے بارے میں مزید تفصیلات موصول ہونے پر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
