کیا ٹرمپ کا راستہ دنیا کو نئے سلطنتوں کے تصادم کی طرف لے جا رہا ہے؟


کیا ٹرمپ کا راستہ دنیا کو نئے سلطنتوں کے تصادم کی طرف لے جا رہا ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ کی پالیسی محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ عالمی تعلقات میں ایک بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔ ان کا وژن واضح ہے: بغیر کسی اتحادی کے بھاری بوجھ اٹھائے، بغیر بین الاقوامی معاہدوں میں الجھے، امریکہ کو اپنی طاقت کے بل پر ‘عظیم’ بنانا۔ لیکن یہ تنہائی پسندانہ راستہ کہاں تک جاتا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ جب بڑی طاقتیں اپنے تحالفات کو کمزور کرتی ہیں، عالمی نظام میں ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ کیا یہ خلا نئی طاقتوں کو ابھرنے کا موقع دے گا؟ کیا ہم ایک ایسے دور میں واپس جا رہے ہیں جہاں ہر بڑی طاقت اپنی سلطنت بنا رہی ہوگی، جس میں طاقت کا توازن مسلسل جنگ وجدل سے قائم رہے؟
ٹرمپ کے حامیوں کے نزدیک، یہ پرانی ذمہ داریوں سے چھٹکارا اور قومی خود مختاری کی بحالی ہے۔ نقادوں کے خیال میں، یہ وہ راستہ ہے جو عالمی عدم استحکام کو جنم دے سکتا ہے۔ سچ شاید ان دونوں کے درمیان کہیں ہے۔ایک سوال جو ہر سوچنے والے ذہن میں ہے: کیا آج کی باہم جڑی ہوئی دنیا میں کوئی ملک واقعی تنہا ‘عظیم’ بن سکتا ہے؟ یا پھر یہ ‘عظمت’ کا نیا تصور دراصل ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دے رہا ہے جہاں طاقت کا کھیل پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک اور غیر مستحکم ہوگا؟ آخرکار تاریخ اکثر خود کو دہراتی ہے، لیکن ہمیشہ یکساں انداز میں نہیں۔ ہماری نسل کے سامنے یہ چیلنج ہے کہ ہم طاقت کے اس نئے کھیل کو سمجھیں اور اس کے ممکنہ نتائج پر غور کریں۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *