آئی سی سی کی اپیل کورٹ نے اسرائیل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے غزہ تفتیش جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا


آئی سی سی کی اپیل کورٹ نے اسرائیل کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے غزہ تفتیش جاری رکھنے کا فیصلہ برقرار رکھا

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی اپیل کورٹ نے اسرائیل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے جس میں عدالت سے غزہ میں ہونے والے مبینہ جنگی جرائم کی تفتیش کی قانونی حیثیت پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اپیل کورٹ نے پیر کے روز اپنے حکم نامے میں کہا کہ پراسیکیوٹر کے پاس 2021 سے جاری تفتیش کے دائرہ کار میں 7 اکتوبر 2023 کے بعد کے واقعات کو شامل کرنے کے لیے کافی قانونی جواز موجود ہیں۔ عدالت نے اسرائیل کے اس موقف کو مسترد کر دیا کہ حالیہ تنازع کی شدت ایک ایسی نئی صورت حال ہے جس کے لیے نئی تفتیش شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

ججوں نے واضح کیا کہ موجودہ تفتیش پہلے ہی جون 2014 سے جاری تنازعات کا احاطہ کرتی ہے اور اس کی کوئی مقررہ اختتامی تاریخ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نئی قانونی اطلاع جاری کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔

یہ فیصلہ نومبر 2024 میں جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹوں کے قانونی جواز کو مزید تقویت دیتا ہے، جن کے تحت اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلانٹ پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ اسرائیل بین الاقوامی فوجداری عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتا۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کر لی۔ 164 ممالک نے قرارداد کے حق میں، 8 نے مخالفت میں جبکہ 9 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

حماس کے سینئر رہنما اسماعیل ہنیہ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت تمام فلسطینیوں کی خواہش ہے۔ ان کے مطابق، جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی فورسز نے غزہ میں 400 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔

ان واقعات کے دوران، اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس پر متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک نے سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *