
لاطینی امریکہ کے قریب سمندر میں یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کی آمد امریکہ اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر رہی ہے۔
یہ 1989 میں پانامہ پر حملے کے بعد سے لاطینی امریکہ میں امریکی فوج کی سب سے بڑی موجودگی ہے۔ جیسے تین دہائیوں قبل مینوئل انتونیو نوریگا پر منشیات کی سمگلنگ کے الزمات لگے تھے ویسے ہی الزامات کا سامنا وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو بھی ہے۔ مادورو الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
امریکہ وینزویلا کے ساحل کے قریب دنیا کے سب سے بڑے اور جدید ترین طیارہ بردار بحری جہاز کو تعینات کر کے اپنے ارادوں کے بارے میں ابہام برقرار رکھ رہا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ وینزویلا پہلے ہی کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے۔
وینزویلا کے وزیر دفاع ولادیمیر پیڈرینو لوپیز نے گذشتہ ہفتے منگل کو ملک بھر میں زمینی، سمندری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سویلین ملیشیاؤں کی ’بڑے پیمانے پر تعیناتی‘ کا اعلان کیا تاکہ نکولس مادورو کی حکومت کو درپیش خطرے کا مقابلہ کیا جا سکے۔
پیڈرینو لوپیز نے ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک پیغام میں مزید کہا تھا کہ نکولس مادورو نے آپریشن کے لیے ’تقریباً دو لاکھ‘ فوجیوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے
