
تین روز قبل پنجاب کے شہر فیصل آباد کی ایک تحصیل سمندری میں ایک مسجد کے باہر پولیس کی فائرنگ سے محمد آصف نامی ایک شخص مارا گیا تھا جو نہ صرف کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کا کارکن تھا بلکہ اس کا تعلق ماضی میں پاکستانی فوج سے بھی بتایا جا رہا ہے۔
ابتدائی طور پر ٹی ایل پی نے محمد آصف کو بطور کارکن تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا تاہم ان کی ہلاکت کے بعد کالعدم جماعت کی جانب سے نہ صرف انھیں اپنا کارکن تسلیم کیا گیا بلکہ ان کی موت پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا۔
دوسری جانب بی بی سی کو عسکری ذرائع اور ایک اعلیٰ پولیس افسر نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے محمد آصف ماضی میں پاکستانی فوج کا حصہ رہے ہیں لیکن وہ بغیر اطلاع دیے جنوری 2025 میں ادارے کو چھوڑ گئے تھے جبکہ ان پر ڈسپلن کی خلاف ورزی کے بھی الزامات تھے۔
واضح رہے کہ اپنی ہلاکت سے قبل محمد آصف روپوش تھے اور اس دوران سوشل میڈیا پر انھوں نے فوج کا حصہ ہونے کی تصدیق کی تھی۔ اسی دوران ہی ان کی بی بی سی اردو سے بھی گفتگو ہوئی تھی۔
محمد آصف کا ٹی ایل پی اور فوج سے کیا تعلق تھا اور وہ کن کن سرگرمیوں میں ملوث رہے؟ یہ جاننے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ 17 اکتوبر کو سمندری میں ہوا کیا تھا؟
