
سوڈان میں خانہ جنگی مزید خونریز دارفور میں ایک ہفتے کے دوران 114 فرد ہلاک ہوئے خرطوم سوڈان میں جاری خانہ جنگی ایک بار پھر شدید مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں مغربی خطے دارفور میں صرف ایک ہفتے کے دوران ہونے والے فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 114 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق تازہ واقعات نے نہ صرف مقامی آبادی کو شدید خوف میں مبتلا کر دیا ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کیونکہ یہ تنازع تیزی سے ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ ہلاکتیں سوڈانی فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری جھڑپوں کے نتیجے میں سامنے آئی ہیں۔ دارفور کے مختلف شہروں میں ہونے والے ان حملوں میں عام شہری براہ راست نشانہ بنے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنگی کارروائیاں اب محض عسکری اہداف تک محدود نہیں رہیں بلکہ آبادی والے علاقوں تک پھیل چکی ہیں۔
طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی دارفور کے شہر الزرق میں ہونے والے ڈرون حملے سب سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے، جہاں کم از کم 51 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب شہر کے بازار اور رہائشی علاقے معمول کی سرگرمیوں میں مصروف تھے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔
