ملکی قرضے اور سیاستدان


تحریر طاہراشرف
ملکی قرضے اور سیاستدان

پاکستان کے موجودہ معاشی بحران اور قرضوں کے بوجھ کے پیچھے کوئی ایک وجہ یا ایک کردار نہیں، بلکہ یہ کئی دہائیوں کے سیاسی، معاشی اور انتظامی فیصلوں کا مجموعہ ہے۔ پاکستان کو قرضوں کے گہرے دلدل میں دھکیلنے میں ملکی حکمرانوں، بین الاقوامی طاقتوں کا ہاتھ ہے
پاکستان کی تاریخ میں فوجی اور جمہوری حکومتوں کے ادوار آتے رہے ہیں۔ ہر نیا حکمران پچھلی حکومت کے پروجیکٹس کو روک کر اپنے نئے منصوبے شروع کرتا رہا، جس سے وسائل کا زیاں ہوا۔ سیاسی ترجیحات میں قومی مفاد سے زیادہ ذاتی اور جماعتی مفاد مقدم رہا۔
بدعنوانی نے قومی خزانے کو نہ صرف خالی کیا بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی افادیت کو بھی متاثر کیا۔ قرضوں سے حاصل ہونے والے فنڈز کا بڑا حصہ ضائع ہوتا رہا، جس کے باوجود قرضے ادائیگی کے لیے واپس کرنے پڑتے ہیں معاشی پالیسیاں
پاکستان میں معاشی پالیسیاں مستقل مزاجی کا شکار نہیں رہیں۔ ٹیکس نظام ناانصافی پر مبنی رہا، جہاں امیر طبقہ ٹیکس ادا کرنے سے بچتا رہا اور غریب طبقہ ریاستی سہولیات سے محروم رہا۔ برآمدات کو فروغ نہ دیا جا سکا جبکہ درآمدات پر انحصار بڑھتا گیا
خطے میں جاری تنازعات اور سلامتی کے مسائل کے پیش نظر پاکستان کو دفاعی بجٹ پر بہت زیادہ خرچ کرنا پڑا۔ یہ اخراجات ملکی وسائل سے پورے نہ ہو سکے تو قرضے لینے پڑے۔
آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے اداروں نے پاکستان کو قرضے تو فراہم کیے، لیکن ان کے سخت شرائط نے معاشی خودمختاری کو متاثر کیا۔ 22 ویں آئی ایم ایف پروگرام سمیت متعدد معاہدوں نے پاکستان کو سخت معاشی شرائط پر عمل کرنے پر مجبور کیا۔
سرد جنگ کے دور میں پاکستان نے امریکہ کا اتحادی بن کر افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی۔ اس دور میں ملنے والے قرضے اور امداد بعد میں واپس کرنے پڑے۔ 9/11 کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں شامل ہونے پر پاکستان کو امداد تو ملی لیکن اس کے معاشی اور سماجی نقصانات بھی اٹھانے پڑے
سی پیک کے تحت چین نے پاکستان میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کے منصوبے شروع کیے، جن کے لیے پاکستان نے چین سے قرضے حاصل کیے۔ اگرچہ یہ منصوبے ترقی کے مواقع رکھتے ہیں، لیکن ان کی واپسی کے لیے قرضوں کا بوجھ بھی بڑھا ہے
پاکستان کو قرضوں میں ڈبونے کا عمل کسی ایک وجہ یا کسی ایک کردار کا نتیجہ نہیں۔ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں ملکی سطح پر سیاسی عدم استحکام بدعنوانی اور ناکام معاشی پالیسیاں شامل ہیں جبکہ بین الاقوامی سطح پر عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط اور جیو پولیٹکس کے اثرات بھی شامل ہیں۔
اس مسئلے کے حل کے لیے جامع اصلاحات کی ضرورت ہے، جن میں شفاف حکمرانی، ٹیکس نظام میں اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، اور قومی مفاد کو ترجیح دینے والی پالیسیاں شامل ہیں۔ پاکستان کو اپنے وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *