
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ احتجاجی تحریک کے حوالے سے پھانسیوں کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران میں ایسا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے انھوں نے زور دے کر کہا، “پھانسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔” ان کے مطابق ملک میں دس دن تک معاشی مسائل کے خلاف پرامن احتجاج جاری رہا، جس کے بعد تین دن کے تشدد کی لہر آئی۔
عراقچی نے اس تشدد کو بیرونی قوتوں کا ایک منظم عمل قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ واقعات اسرائیلی ایجنڈے کے تحت رونما ہوئے۔ ان کے بقول، بعض مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، داعش طرز کی کارروائیاں کیں اور کچھ صورتوں میں پولیس کو زندہ جلانے کی کوشش بھی کی گئی۔وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ اس وقت صورتحال پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے اور ملک میں امن و سکون بحال ہوچکا ہے۔ انھوں نے اطمینان دلایا کہ احتجاج میں شامل افراد کو پھانسی دینے کی کوئی تجویز یا منصوبہ بندی موجود نہیں ہے۔
