
وہ ڈبل ایجنٹ جس نے امریکہ کا سب سے بڑا خفیہ راز فروخت کیا سرد جنگ کے تاریک دور میں ایک ایسا شخص سامنے آیا جس کی کارروائیوں نے امریکی خفیہ اداروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس کی دھوکہ دہی کی کہانی صرف جاسوسی ناولوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ حقیقی تاریخ کا ایک ایسا باب بن گئی جسے “امریکی خفیہ تاریخ کا سب سے بڑا دھچکا قرار دیا جاتا ہے۔رابرٹ ہنسن نامی یہ شخص ظاہری طور پر ایک معمولی امریکی ایف بی آئی ایجنٹ تھا۔ اس نے 1979 میں ایف بی آئی جوائن کیا اور پھر سوویت یونین کے خلاف کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹ میں خدمات انجام دینے لگا۔ لیکن اس کے پیچھے ایک اور کہانی چل رہی تھی – وہ 1985 سے مسلسل سوویت یونین اور بعد میں روس کے لیے خفیہ معلومات فروخت کر رہا تھا۔
خفیہ بازار میں قیمتی سامان ہنسن نے کوڈ نام دی رام استعمال کرتے ہوئے ایسی معلومات فروخت کیں جو امریکی خفیہ تاریخ میں بے مثال تھیں امریکہ کی روس میں لگائی گئی خفیہ سرنگوں کی تفصیلات روس میں کام کرنے والے متعدد امریکی خفیہ ایجنٹوں کی شناخت جدید ترین جاسوسی ٹیکنالوجی اور طریقہ کار مواصلاتی نظام خفیہ مواصلاتی طریقوں کی مکمل تفصیلات ہنسن کی سب سے خطرناک حکمت عملی یہ تھی کہ وہ خود ایف بی آئی کے “سوویت ڈیسک” پر بیٹھا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ نہ صرف خفیہ معلومات تک رسائی رکھتا تھا، بلکہ اسے یہ بھی پتہ تھا کہ اگر اس کے بارے میں شک ہوا تو امریکی ادارے کس طرح انویسٹی گیشن کریں گے۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے پرانے جاسوسی طریقے استعمال کیے – پارکوں میں خفیہ نشان چھوڑنا، ڈیڈ ڈراپس کا استعمال، اور پیچیدہ کوڈ میں پیغامات بھیجنا۔ خفیہ جنگ کا خفیہ ہیرو ہنسن کی فروخت کی گئی معلومات کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم از کم دو امریکی جاسوسوں کو پکڑوا کر ان کی موت واقع ہوئی امریکہ کے متعدد خفیہ آپریشن ناکام ہوئے سوویت یونین کو امریکی جاسوسی ٹیکنالوجی کی مکمل معلومات مل گئیں امریکی اداروں کو اپنے بہت سے طریقے بدلنے پڑے ہنسن کا کھیل 2001 میں ختم ہوا جب ایک امریکی انویسٹی گیشن نے اس تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔ فروری 2001 میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں اس نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس کیس نے امریکی خفیہ اداروں میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا اور ایک ایسا سوال چھوڑ گیا کہ: “اگر ہنسن جیسا شخص اتنا عرصہ غیر پکڑا رہ سکتا ہے، تو اور کون چھپا ہو سکتا ہے؟یہ کہانی محض ایک شخص کی دھوکہ دہی کی کہانی نہیں، بلکہ سرد جنگ کی وہ تاریک جہت ہے جہاں وفاداریاں تبدیل ہوتی رہیں اور رازوں کی تجارت نے عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کیا۔ آج بھہ یہ کیس خفیہ اداروں کے لیے ایک سبق ہے کہ سب سے بڑا خطرہ اکثر دشمن کی طرف سے نہیں، بلکہ اپنے ہی دروازے کے اندر سے آتا ہے۔
