
ایک متنازع بیان: یوگی آدتیہ ناتھ کا بنگلہ دیش اور پاکستان کے حوالے سے دعویٰ
بھارتی ریاست اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے نمایاں رہنما یوگی آدتیہ ناتھ نے لوک سبھا میں ایک ایسا بیان دیا ہے جس نے جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف بنگلہ دیش اور پاکستان کے بارے میں شدید بیانات دیے بلکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں بھارت کے لیے خطرہ قرار دیا۔ یہ بیان بھارت کی خارجہ پالیسی، اس کے پڑوسیوں سے تعلقات اور ملکی سیاست کے داخلی تقاضوں کے درمیان کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش پھر پاکستان کا حصہ بن رہا ہے۔ ان کا یہ بیان بنگلہ دیش کی آزاد اور خود مختار حیثیت کے یکسر متضاد ہے۔ بنگلہ دیش 1971ء میں تاریخی تحریک اور جنگ کے بعد ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں آیا جس میں بھارت نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یوگی کے مطابق اس عمل کے پیچھے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار ہے۔ عاصم منیر پاکستانی فوج کے سابق سربراہ ہیں جو اس وقت پاکستان کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک عاصم منیر ہے، بھارت کی خیر نہیں۔یہ بیان بھارت-پاکستان کے پیچیدہ اور کشیدہ تعلقات کی گہری جڑوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں پاکستانی فوجی قیادت کو بھارتی حلقوں میں اکثر ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے اس بیان بھارت کی موجودہ مرکزی حکومت پر تنقید بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس صورتحال پر سخت موقف اپنانا چاہیے اور بنگلہ دیش کے معاملے میں فیصلہ کن پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ یہ بیان بی جے پی کے اندرونی سیاسی مباحثے کا بھی عکاس ہو سکتا ہے، جہاں سخت گیر رہنما حکومت پر خارجہ پالیسی میں “نرم” ہونے کا الزام لگاتے رہتے ہیں۔
اس بیان کا ایک پہلو داخلی سیاست بھی ہے۔ اتر پردیش میں بی جے پی کی مضبوط سیاسی پوزیشن کو برقرار رکھنے اور قومی سطح پر ایک سخت گیر امیج کو فروغ دینے کے لیے ایسے بیانات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ پڑوسی ممالک کے خلاف سخت لہجہ بی جے پی کے بنیادی ووٹر بینک میں مقبول ہے۔
یہ بیان بنگلہ دیش میں شدید ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔ بنگلہ دیش ایک خود مختار ملک ہے اور اسے پاکستان کا حصہ قرار دینا اس کی آزادی اور قومی شناخت کی توہین ہے۔ ممکن ہے کہ ڈھاکہ کی جانب سے اس پر سرکاری طور پر اعتراض درج کرایا جائے۔ پاکستان کی جانب سے بھی اس بیان پر سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
بھارت کی اپوزیشن جماعتیں اس بیان کا فائدہ اٹھا کر حکومت پر سوال اٹھا سکتی ہیں کہ کیا یہ بیان ملکی خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے یا نہیں۔ وزیر خارجہ یا وزارت خارجہ کو اس بات کی وضاحت کرنی پڑ سکتی ہے کہ آیا یوگی کا موقق حکومت کا موقف ہے یا ذاتی رائے۔ بھارتی میڈیا میں یہ بیان ایک بڑی خبر بنا ہے۔ کچھ حلقے اس کی سخت الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں جبکہ قومی سلامتی کے نام پر سخت گیر پالیسی کے حامی اس کی تائید کر سکتے ہیں۔ سماجی میڈیا پر اس کی گونج دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یوگی کا بیان 1971ء کی تاریخ کو نظر انداز کرتا دکھائی دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی ایک طویل عوامی جدوجہد کا نتیجہ تھی اور اسے پاکستان کا حصہ بننے کے عمل کے طور پر پیش کرنا تاریخی حقائق سے دوری ہے
یوگی آدتیہ ناتھ کا بیان بھارتی سیاست میں پڑوسی ممالک کے حوالے سے استعمال ہونے والے سخت گیر بیانات کی ایک کڑی ہے۔ یہ نہ صرف خارجہ تعلقات کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ بیان بھارت کی داخلی سیاست، اس کے خارجہ پالیسی کے چیلنجز اور خطے میں اس کے کردار کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ آیا یہ بیان محض سیاسی خطابت ہے یا اس کے گہرے سفارتی مضمرات ہیں، آنے والا وقت ہی اس کا تعین کرے گا۔ فی الحال، اس نے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا ہے جو بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش کے باہمی تعلقات کے نازک توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
