
اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ایک پیچیدہ بین الاقوامی معاملہ
اسرائیل نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد کئی مسلم ممالک نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے خطے سے متعلق ہے جو عشروں سے متنازعہ حیثیت کا شکار ہےصومالی لینڈ، جو خلیج عدن کے ساحلوں پر واقع ہے، درحقیقت 1991 سے ایک “عملی طور پر آزاد” خطہ ہے جو خود کو خودمختار ریاست قرار دیتا ہے، لیکن اسے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ یہ خطہ صومالیہ کا شمالی حصہ ہے جو برطانوی نوآبادیاتی دور کی سرحدوں پر مبنی ہے۔ صومالی لینڈ 1960 میں آزادی کے بعد صرف پانچ دن تک ایک خودمختار ریاست رہا، پھر اس نے جنوبی صومالیہ (اطالوی نوآبادی) کے ساتھ مل کر موجودہ صومالیہ تشکیل دیا۔ 1980-90 کی دہائیوں میں صومالیہ میں خانہ جنگی کے دوران، صومالی لینڈ کے لوگوں نے صومالی حکومت کے مظالم کا سامنا کیا صومالی لینڈ نے گذشتہ تین عشروں میں ایک مستحکم، جمہوری نظام تشکیل دیا ہے، جبکہ باقی صومالیہ اب بھی عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کے پاس خلیج عدن پر 850 کلومیٹر ساحل ہے جو بحر ہند میں اہم تجارتی راستے پر واقع ہے۔
اسرائیل کا یہ فیصلہ کئی مسلم ممالک خصوصاً صومالیہ، مصر، ترکی اور سعودی عرب میں ناپسندیدگی کا باعث بنا ہے۔ صومالی حکومت نے اسے علاقائی سالمیت پر حملہ” قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اسرائیل کے لیے یہ فیصلہ کئی مفادات کا حامل ہے خلیج عدن میں اسٹریٹجک موجودگی بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیلی بحری مفادات کا تحفظ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف محاذ آرائی کرنے والے ممالک کے درمیان ایک نئے اتحادی کا حصول
صومالی لینڈ کی آزادی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جانا ابھی تک ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ افریقی یونین عام طور پر نوآبادیاتی دور کی سرحدوں میں تبدیلی کے خلاف ہے۔ تاہم، جیسے جیسے خطے میں اسرائیل، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، صومالی لینڈ کی صورت حال مزید پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف صومالیہ کی علاقائی سالمیت کا سوال ہے بلکہ مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں طاقت کے نئے اتحادات کے ابھرنے کا بھی اشارہ دے رہا ہے۔
