

محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو بھجوائی گئی درخواست میں تہلکہ خیز انکشافات
محکمہ ایریگیشن سرگودھا ڈویژن میں 40 کروڑ سے زائد مبینہ کرپشن کا الزام
سرگودھا ()
سرگودھا میں مالی بے ضابطگیوں کا ایک بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا۔ ایک شہری کی جانب سے محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو دی گئی مفصل درخواست میں محکمہ ایریگیشن سرگودھا ڈویژن کے بعض افسران پر مالی سال 2022-2023 کے دوران 40 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن، بوگس ایسٹی میٹس کی تیاری، ناقص تعمیراتی کاموں اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔درخواست گزار محمد نصیر بلوچ، جو محکمہ ایریگیشن میں ارتھ ورک مستری کے طور پر فرائض انجام دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، نے اپنی درخواست میں متعدد منصوبوں، گاڑیوں کی مرمت، فلڈ بندز، نہروں کی صفائی، کنکریٹ لائننگ، پلوں کی تعمیر اور مضبوطی کے نام پر جاری کیے گئے فنڈز میں مبینہ خرد برد کی تفصیلی نشاندہی کی ہے۔گاڑیوں کی مرمت میں مبینہ گھپلے بھی سامنے آئے ہیں درخواست کے مطابق سرکاری گاڑیوں کی مرمت اور مینٹیننس کے نام پر کروڑوں روپے کے تخمینے تیار کیے گئے جبکہ بیشتر گاڑیاں ناکارہ اور کھنڈرات جیسی حالت میں موجود ہیں۔الزام ہے کہ
مختلف گاڑیوں کی مرمت، بیرنگ، انجن، باڈی ورک اور دیگر مدات میں لاکھوں روپے کے مبینہ جعلی بل پاس کروائے گئے۔بعض گاڑیوں کے لیے ایک ہی مالی سال میں بار بار بھاری رقوم جاری کی گئیں۔
لاگ بکس اور مرمتی ریکارڈ میں تضاد پایا جاتا ہےدرخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ گاڑیوں کی لاگ بکس، مرمتی رسیدیں اور ورکشاپ ریکارڈ قبضہ میں لے کر فرانزک آڈٹ کیا جائے۔
فلڈ بندز اور ہنگامی فنڈز میں بے ضابطگیاں بھی کی گئی ہیںدرخواست میں فلڈ سیزن 2022-23 کے دوران “Deploying Machinery” اور “Flood Bund Strengthening” کے نام پر جاری کیے گئے کروڑوں روپے کے فنڈز پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔جس میں الزام ہے کہ
مشینری کی تعیناتی کے نام پر بھاری رقوم جاری کی گئیں مگر موقع پر کام نہ ہونے کے برابر ہے۔بندوں کی مضبوطی کے لیے ناقص میٹریل استعمال کیا گیا۔
متعدد منصوبوں میں تخمینے کے مطابق کام مکمل نہیں کیا گیا۔
درخواست گزار نے ایم بی بکس (Measurement Books)، سی ایم بی بکس، سائٹ انسپیکشن رپورٹس اور تھرڈ پارٹی ویری فکیشن رپورٹس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نہروں کی لائننگ اور ڈی سلٹنگ میں مبینہ فراڈ
درخواست میں مختلف ڈسٹری بیوٹریز اور مائنرز کی کنکریٹ لائننگ، ری ہیبلیٹیشن اور ڈی سلٹنگ کے منصوبوں میں مبینہ بوگس ایسٹی میٹس بنانے کا الزام بھی شامل ہے۔
درخواست کے مطابق:
کنکریٹ لائننگ کے منصوبوں میں ناقص میٹریل استعمال کیا گیا۔
ڈی سلٹنگ کے نام پر خطیر رقوم جاری ہوئیں مگر نہروں میں مٹی اور گاد جوں کی توں موجود ہے۔بعض منصوبوں میں “Revalidation” کے نام پر دوبارہ فنڈز جاری کیے گئے۔
ریٹائرڈ افسران کو مراعات دینے کا بھی الزام ہے
درخواست میں ایک ریٹائرڈ افسر کو مبینہ طور پر قواعد کے برعکس مراعات اور ادائیگیاں جاری رکھنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ سروس بک، پنشن ریکارڈ اور این او سی کی مکمل چھان بین کی جائے اور اگر خلاف ضابطہ ادائیگیاں ثابت ہوں تو رقم واپس سرکاری خزانے میں جمع کروائی جائے۔تھرڈ پارٹی انسپیکشن پر سوالات اٹھائے گئے ہیں
درخواست میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تھرڈ پارٹی انسپیکشن کو مبینہ طور پر اثر انداز کیا جاتا رہا اور رپورٹس کو کلیئر کرایا جاتا رہا، جس کے باعث ناقص اور نامکمل کاموں کی ادائیگیاں ہوتی رہیں۔
درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ افسران کے تقرر سے قبل اور موجودہ اثاثہ جات کا تقابلی جائزہ لیا جائے، بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں اور دیگر مالی معاملات کی چھان بین کی جائے تاکہ اگر آمدن سے زائد اثاثے ہوں تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔درخواست میں پیڈا ایکٹ 2006 کے تحت محکمانہ کارروائی، فوجداری مقدمہ درج کرنے، فنڈز کی ریکوری اور ذمہ داران کو ملازمت سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ میں نے ایک درخواست ڈی جی اینٹی کرپشن لاہور کو بھی گزاری ہے حکام کی خاموشی
تاحال محکمہ ایریگیشن سرگودھا ڈویژن کے متعلقہ افسران کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
شہری و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، شفاف انکوائری کروانے اور حقائق عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ سرگودھا کی تاریخ کے بڑے مالی اسکینڈلز میں سے ایک قرار دیا جا سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب ان سنگین الزامات پر کس حد تک پیش رفت کرتا ہے اور شفاف احتساب کو کیسے یقینی بناتا ہے۔لیکن ابھی تک خاموشی کرپشن کو روکنے والے اداروں اور افسران پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے
