پورے ملک میں ایک ووٹ بھی اس کے خلاف کسی نے نہیں دیا


پورے ملک میں ایک ووٹ بھی اس کے خلاف کسی نے نہیں دیا
کم جونگ اُن کو ایک بار پھر شمالی کوریا کی حکمران جماعت، ورکرز پارٹی آف کوریا کے سربراہ کے طور پر 100 فیصد ووٹوں سے متفقہ طور پر منتخب کیا گیا۔ سرکاری میڈیا کے مطابق یہ انتخاب پارٹی کے اندر مکمل اتفاق رائے کے ساتھ ہوا، جس میں تمام نمائندوں نے کم جونگ اُن کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ اس عمل کو شمالی کوریا میں سیاسی استحکام اور قیادت کے تسلسل کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

شمالی کوریا میں انتخابات کا نظام مغربی جمہوری ممالک سے مختلف ہے۔ وہاں عام طور پر ایک ہی امیدوار ہوتا ہے اور ووٹنگ کا مقصد عوامی اور پارٹی حمایت کا اظہار سمجھا جاتا ہے، نہ کہ مختلف امیدواروں کے درمیان مقابلہ۔ اسی وجہ سے کم جونگ اُن کو اکثر 100 فیصد ووٹ ملنے کی خبریں سامنے آتی ہیں، جو حکومتی بیانیے کے مطابق عوام اور پارٹی کی مکمل حمایت کو ظاہر کرتی ہیں۔

کم جونگ اُن 2011 میں اپنے والد کم جونگ اِل کی وفات کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔ اس کے بعد سے انہوں نے ملک کی فوجی طاقت، خاص طور پر جوہری پروگرام، کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کی قیادت میں شمالی کوریا نے کئی میزائل تجربات کیے ہیں، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر توجہ اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

سرکاری بیانات کے مطابق، ان کی دوبارہ متفقہ انتخاب کو ملک کی ترقی، اتحاد اور مضبوط قیادت کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کی قیادت میں شمالی کوریا اپنے سیاسی، معاشی اور دفاعی اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش جاری رکھے گا۔ تاہم، بین الاقوامی مبصرین اکثر شمالی کوریا کے سیاسی نظام کو ایک سخت کنٹرول شدہ اور یک جماعتی نظام قرار دیتے ہیں، جہاں حقیقی سیاسی مقابلہ موجود نہیں ہوتا۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *