
یہ ایک انتہائی اہم سوال ہے جو بھکر میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے نے پیدا کر دیا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ خدشہ جنم دیا ہے کہ کیا دہشت گردی کی لہر، جو طویل عرصے سے خیبر پختونخوا تک محدود نظر آتی تھی، اب پنجاب جیسے بڑے اور پرامن صوبے کی طرف بھی بڑھ رہی ہے۔ آئیے اس واقعے اور اس کے مضمرات پر تفصیل سے نظر ڈالتے ہیں۔بھکر میں خوفناک خودکش دھماکا گذشتہ روز پنجاب کے ضلع بھکر میں پیش آنے والا خودکش دھماکا انتہائی قابلِ تشویش ہے۔ اس حملے میں دو سے چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے ۔ یہ حملہ ڈی آئی خان اور پنجاب کے سنگم پر واقع ڈاجل چیک پوسٹ پر کیا گیا، جو دونوں صوبوں کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے ۔ اس حملے کے بعد انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے تحت اس اہم شاہراہ کو بند کر دیا، جس سے عوام اور تاجروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل آپریشنز کے باوجود شدت پسند واقعات میں حالیہ مہینوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ زیادہ تر واقعات خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیش آئے ۔ صرف ایک دن پہلے، خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس کی گاڑی پر حملے میں ڈی ایس پی سمیت 6 پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے ۔
جغرافیائی لحاظ سے بھکر کی اہمیت اور خطرہ بھکر میں ہونے والا یہ حملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ صوبہ پنجاب کا حصہ ہے، جسے طویل عرصے سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مقابلے میں نسبتاً پرامن سمجھا جاتا رہا ہے۔ لیکن بھکر کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے خطرے سے دوچار کرتا ہے۔ یہ ضلع قبائلی علاقوں سے متصل ہے اور ڈیرہ اسماعیل خان کے راستے خیبرپختونخوا سے براہِ راست جڑا ہوا ہے ۔ماہرین کے مطابق شدت پسند تنظیمیں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جسے فوجی بیان میں فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے بعد اپنی کارروائیوں کو پنجاب میں منتقل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ ان تنظیموں کا مقصد نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا ہے بلکہ عوام میں خوف و ہراس پھیلانا اور ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالنا بھی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے فوری اقدامات اس خطرے کو بھانپتے ہوئے، پنجاب حکومت نے فوری طور پر اپنے سیکیورٹی انتظامات کو مزید موثر بنانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے تمام داخلے اور خارجی راستوں پر جدید ڈیجیٹل سکینرز لگانے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی انسدادِ ڈرون یونٹ قائم کرنے کی منظوری دی ہے ۔ انہوں نے صوبے میں مسلسل تلاشی آپریشنز اور انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کو مزید فعال کرنے کی بھی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کو روکا جا سکے ان اقدامات سے صاف ظاہر ہے کہ پنجاب انتظامیہ اس نئے خطرے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور وہ کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے بھی شہدا کے خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف “سیسہ پلائی دیوار” کی طرح کھڑی ہے ۔ کیا واقعی خطرہ بڑھ گیا ہے؟ کیا خیبرپختونخوا کے بعد پنجاب میں بھی شدت پسندوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہاں خطرے کے آثار ضرور نظر آ رہے ہیں بھکر میں ہونے والا خودکش حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند پنجاب کی سرزمین پر بھی بڑے حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پنجاب خیبرپختونخوا جیسی صورتحال سے دوچار ہو جائے گا۔ پنجاب کا انتظامی ڈھانچہ، پولیس کا نظام اور انٹیلی جنس نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ صوبے کے وسیع تر جغرافیے اور گنجان آبادی کی وجہ سے سیکیورٹی چیلنجز تو ضرور ہیں، لیکن حکومت پنجاب نے فوری ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا شروع کر دیے ہیں ۔آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ دہشت گردی کا یہ نیا واقعہ پنجاب کے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔ صوبائی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کو چوکس رہنا ہوگا اور عوامی تعاون سے ان چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ صرف سخت سیکیورٹی ہی نہیں بلکہ شدت پسندی کی بنیادوں کو ختم کرنے کے لیے سماجی اور معاشی اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے تاکہ پنجاب اور پورا پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے پاک ہو سکے۔
