بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر ہے، جہاں ایک حساس واقعے نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا طبی کام کے دوران نقاب (نقاب) کھینچے جانے کے ایک واقعے کے بعد سخت تنقید کی جا رہی ہے


آج سب کی توجہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر ہے، جہاں ایک حساس واقعے نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔

صورت حال یہ ہے کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار پر ایک مسلمان خاتون ڈاکٹر کا طبی کام کے دوران نقاب (نقاب) کھینچے جانے کے ایک واقعے کے بعد سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ سماجی میڈیا پر وائرل ہوا، جس کے بعد نتیش کمار کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی۔

تنقید کرنے والوں کا موقف ہے کہ یہ واقعہ اقلیتی برادری کے خلاف حساسیت کی کمی اور ان کے مذہبی شعائر کا احترام نہ کرنے کی علامت ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں اور سماجی کارکنوں نے واقعے کی فوری تحقیقات اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

دباؤ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ سیاسی مبصرین اور مخالفین وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار سے فوری استعفیٰ تک کی مانگ کرنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی ناکامی اور ایسے حساس معاملوں پر بروقت کارروائی نہ ہونے کی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے۔

فی الحال، وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کی طرف سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں گفتگو ہے کہ آنے والے گھنٹوں میں نتیش کمار انتظامیہ کو اس معاملے پر واضح موقف اختیار کرنا ہوگا، کیونکہ واقعے نے نہ صرف ریاست بلکہ ملک بھر میں سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔

یہ معاملہ محض ایک واقعے سے آگے بڑھ کر حکومتی پالیسیوں، انتظامیہ کے رویے اور اقلیتوں کے تحفظ کے وعدوں پر ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *