افغان معیشت میں مثبت پیش رفت لیکن چیلنجز برقرار – Copy


افغان معیشت میں مثبت پیش رفت لیکن چیلنجز برقرار
عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق افغان معیشت میں گزشتہ دو برسوں سے بتدریج وسعت آرہی ہے۔ بینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’افغانستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ‘ میں اس اقتصادی بہتری کی بنیادی وجوہات کم ہوتی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی آمدن کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ سنہ 2025 میں افغانستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 4.3 فیصد اضافہ متوقع ہے، جو گزشتہ سال کے 2.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ افغان معیشت کو متعدد بنیادی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں آبادی میں تیزی سے اضافہ، بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ اور غربت کی بلند شرح شامل ہیں۔ یہ مسائل ملک کی اقتصادی ترقی کے حصول میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کی معاشی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں عالمی بینک کی ’پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ‘ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث پاکستانی معیشت مشکلات کا شکار ہے۔ بینک کے اندازوں کے مطابق جون 2025 تک پاکستان کی اقتصادی شرح نمو تین فیصد رہنے کی توقع ہے، جو گزشتہ سال کے 2.6 فیصد کے مقابلے میں کچھ بہتر ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں اقتصادی ترقی کے موجودہ رجحانات کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی پالیسیوں میں استحکام، سرمایہ کاری کے موافق ماحول اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوگی۔ اقتصادی توسیع کے باوجود، غربت میں کمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ملک کے لیے سب سے بڑے چیلنجز ہیں۔
خطے میں اقتصادی صورتحال کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے اپنے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم افغانستان کے لیے حالیہ اقتصادی بہتری ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *