یوکرین کا زیرسمندر ڈرون کے ذریعے روسی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ


یوکرین کا زیرسمندر ڈرون کے ذریعے روسی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: جو کچھ ہم جانتے ہیں
یوکرینی فوج نے پہلی بار ایک اہم دعویٰ کیا ہے کہ اس نے زیرسمندی ڈرون (سی ڈرون) کے ذریعے بحیرہ اسود میں روسی آبدوز کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ اگر اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ بحری جنگ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے یوکرین کے فوجی ذرائع کے مطابق، یہ کارروائی گذشتہ ہفتے بحیرہ اسود کے کریمیا کے قریب انجام دی گئی۔ یوکرینی بحریہ کے زیرسمندر ڈرون نے روسی بحریہ کی روستوف-آن-ڈان آبدوز کو نشانہ بنایا، جو ایک ڈیزل برقی قوت سے چلنے والی ہلکی آبدوز ہے۔ یہ آبدوز روسی بحریہ کے جدید ترین آبدوزی بیڑے کا حصہ سمجھی جاتی ہے روس نے اب تک اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم، روسی فوج کے بعض نامہ نگاروں نے اس واقعے کو تسلیم کرتے ہوئے اسے “اہم نقصان قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق، اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ بحری جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کا ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔ روایتی طور پر آبدوزیں زیر سمندر حملوں سے محفوظ سمجھی جاتی تھیں، لیکن جدید ڈرون ٹیکنالوجی نے اس تصور کو بدل دیا ہے۔یوکرین نے گزشتہ کئی مہینوں سے “سی ڈرون” نامی زیرسمندر ڈرون تیار کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے۔ یہ ڈرون آہستہ اور خاموشی سے زیر سمندر سفر کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکتے ہیں اور پھر خودکش حملہ آور کی حیثیت سے ہدف کو تباہ کر سکتے فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بحیرہ اسود میں روسی بحریہ کی برتری کے خلاف یوکرین کی بڑھتی ہوئی بحری صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ اگرچہ روسی بحریہ کا حجم اور طاقت یوکرین سے کہیں زیادہ ہے، لیکن یوکرین جدید ٹیکنالوجی اور غیر روایتی حربوں کے ذریعے اس عدم توازن کو کم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔اس وقت تک اس واقعے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ یہ کارروائی زیر آب انجام دی گئی ہے۔ تاہم، فوجی تجزیہ کار اس واقعے کو یوکرین روس جنگ میں ایک اہم پیشرفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو بحری جنگ کی نوعیت کو بدل سکتی ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *