وفاقی محتسب کے کارکردگی ایوارڈز تقریب سے خطاب محنت اور لگن کو خراج تحسین


سرگودہا(بیورو رپورٹ)وفاقی محتسب کے کارکردگی ایوارڈز تقریب سے خطاب محنت اور لگن کو خراج تحسین اسلام آباد وفاقی محتسب پاکستان جناب اعجاز احمد قریشی نے کہا ہے کہ اداروں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران و عملے کی حوصلہ افزائی اور ایوارڈز دینے سے دیگر ملازمین میں بھی بہتر اور زیادہ کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی محتسب سیکرٹیریٹ، اسلام آباد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب میں وفاقی محتسب کے ہیڈ آفس، صوبہ بلوچستان اور آزاد جموں و کشمیر و گلگت بلتستان کے علاقائی دفاتر میں بہترین کارکردگی دکھانے والے افسران و عملے کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا کے علاقائی دفاتر کے لیے الگ الگ تقریبات منعقد کی جا چکی ہیں۔وفاقی محتسب نے کہا کہ اپنے فرائض ایمانداری اور بہ حسن و خوبی انجام دینے والے افسران و ملازمین ہمارا قیمتی اثاثہ اور ادارے کا وقار ہیں۔ ادارے نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، اس کے پیچھے ان ملازمین کی مسلسل محنت اور لگن کا عمل دخل ہے۔ ادارے ایسے ہی افراد کے ذریعے ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔انہوں نے ادارے کے افسران و عملے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کی محنت اور لگن سے یہ ادارہ مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ آپ اسی جذبے سے خدمات سرانجام دیتے رہیں تاکہ عوام کی شکایات کا جلد ازالہ ہوتا رہے اور ادارے پر لوگوں کا اعتماد قائم رہے۔ شکایات کے ازالے کے شاندار اعداد و شمار وفاقی محتسب اعجاز احمد قریشی نے اپنے خطاب میں ادارے کے کارکردگی اعداد و شمار بھی شیئر کیے مالی بازیابی اس سال ادارے کی طرف سے مجموعی طور پر 9.46 ارب روپے مالیت کے تنازعات کے فیصلے کیے گئے۔
فیصلوں کی تعداد رواں سال میں اب تک دو لاکھ 52 ہزار سے زائد فیصلے کیے جا چکے ہیں۔تاریخی کارکردگی ادارہ 1983ء میں قائم ہوا۔ سال 2021ء تک پہلے 38 سالوں میں کل17 لاکھ 70 ہزار 99 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔ 2022ء سے 2025ء تک صرف چار سال کے دوران 8 لاکھ 50 ہزار سے زائد شکایات کے فیصلے کیے جا چکے ہیں۔ یہ تعداد پہلے 38 سالوں کے مجموعی فیصلوں کا تقریباً بنتی ہے۔ وفاقی محتسب نے اسے افسران و عملے کی محنت کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا
یہ وفاقی محتسب کی تاریخ میں پہلی بار ہے کہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو شیلڈز اور تعریفی اسناد سے نوازا گیا ہے۔ ان ایوارڈز کو خالصتاً میرٹ اور تسلسل سے نمایاں کارکردگی کی بنیاد پر دیا گیا۔ اس کے لیے ادارے کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے سخت معیارات مقرر کیے تھے، جن میں شکایات کی وصولی، فیصلوں کی تعداد، کھلی کچہریوں کا انعقاد، وفاقی دفاتر کے معائنے اور ان کے مثبت اثرات وغیرہ جیسے پیمانے شامل تھے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *