
آج سے 24 سال پہلے، کرسمس کے موقع پر ایک پرواز نے پورے جنوبی ایشیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ کہانی ہے انڈین ایئرلائنز کی پرواز آئی سی 814 کی، جو ایک معمول کی پرواز سے ایک المناک یرغمالی بحران میں بدل گئی۔24 دسمبر 1999 کی شام نیپال کے شہر کھٹمنڈو سے دہلی جانے والا ائیر بس A300 طیارہ اڑان بھرتا ہے۔ اس میں 180 سے زیادہ مسافر اور عملہ سوار ہیں۔ بمشکل 40 منٹ گزرے ہوں گے کہ پانچ مسلح افراد نے طیارے پر قبضہ کر لیا۔ ان کا مطالبہ تھا: ہندوستان کی جیلوں میں بند تین ممتاز مسلح جنگجوؤں کی رہائی۔ ایک ڈراؤنا سفر ہائی جیکروں کے دباؤ میں طیارہ پہلے امرتسر، پھر لاہور، اور پھر دبئی کی طرف موڑ دیا گیا۔ ہر اسٹاپ پر مسافروں کی تکلیف بڑھتی گئی۔ دبئی میں ہائی جیکروں نے ایک مسافر کو قتل کر کے باہر پھینک دیا، جس سے صورتحال کی سنگینی عیاں ہو گئی۔ آخرکار، ان کے دباؤ کے آگے جھکتے ہوئے، متحدہ عرب امارات کے حکام نے طیارے کو ایندھن بھرنے کی اجازت دی اور وہ اپنے حتمی منزل کی طرف روانہ ہو گیا: افغانستان کے شہر قندھار کا ایک ویران، ٹوٹا پھوٹا ہوا ہوائی اڈا۔ قندھار: سرد راتوں کا صحرائی قید خانہ اس وقت افغانستان پر طالبان کی حکمرانی تھی۔ ویران ہوائی اڈے پر طیارہ اترا، جہاں سردی میں مسافر سات دن تک پھنسے رہے۔ یہ ایام ان کے لیے جہنم سے کم نہ تھے۔ ہائی جیکر مسافروں سے بدسلوکی کرتے، بعض کو مارتے پیٹتے۔ باہر، طالبان حکام ایک “مفاد” ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ ہندوستانی مذاکراتی ٹیم شدید دباؤ میں تھی۔اختتام… اور ایک پیچیدہ وراثت سات دن کے انتہائی تناؤ کے بعد، ہندوستانی حکومت کو مجبوراً سمجھوتہ کرنا پڑا۔ تین متنازعہ قیدیوں—مسعود اظہر، عمر شیخ اور ملک الطاف—کو رہا کر دیا گیا۔ 31 دسمبر 1999 کی شام کو، یہ تینوں افراد قندھار میں طیارے کے دروازے پر نمودار ہوئے۔ اس کے بعد ہائی جیکروں نے مسافروں کو رہا کر دیا اور خود افغانستان کی تاریکی میں غائب ہو گئے۔
آج بھی زخم تازہ ہیں
یہ واقعہ محض ایک پرواز ہائی جیکنگ نہیں رہا۔ اس نے خطے کی سلامتی کی پالیسیوں پر گہرے نشانات چھوڑے۔ رہا ہونے والے افراد میں سے کچھ بعد ازاں جنوبی ایشیا میں دہشت گرد سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتے رہے، جس نے اس بحران کے طویل مدلی نتائج کو اجاگر کیا۔
آئی سی 814 کا المیہ ایک تلخ یادداشت ہے کہ کس طرح ایک معمول کی شام اچانک خوف اور عدم تحفظ کی داستان بن گئی، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ وہ واقعہ ہے جو خطے کی اجتماعی یادداشت میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔
