ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ایران نے جوہری افزودگی کے حوالے سے ایک اہم قدم اٹھانے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ تہران اس بات پر تیار ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی کی سطح کو 60 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد سے بھی نیچے لے آئے، اور ساتھ ہی ساتھ افزودگی کے عمل کو مکمل طور پر سات سال کے لیے معطل کر دے۔ دوسری طرف امریکہ نے بھی اس تجویز پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امریکی موقف میں لچک دیکھنے میں آئی ہے، کیونکہ وہ افزودگی کو مکمل طور پر صفر کرنے پر اصرار نہیں کر رہا۔ واشنگٹن کی شرط صرف اتنی ہے کہ ایران 10 سال تک افزودگی کا عمل معطل رکھے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں ممکنہ کمی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
