اجتماعی نمازِ جنازہ کی فضا کو قلمبند کیا جائے میناب کا خونین سانحہ اسکول پر حملے کے 160 شہید بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا قوم سوگوار


بین الاقوامی ردعمل اور اجتماعی نمازِ جنازہ کی فضا کو قلمبند کیا جائے میناب کا خونین سانحہ اسکول پر حملے کے 160 شہید بچوں کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا قوم سوگوار ہفتہ، 28 فروری 2026 کی صبح، ایرانی تقویم کا وہ سیاہ دن تھا جب جنوبی ایران کا پرسکون شہر میناب ایک ایسے المیے کی زد میں آیا جس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ مقامی وقت کے مطابق تقریباً 10 بجے، امریکہ اور اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری نے شہر کے اندرونی حصے میں واقع شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 160 سے زائد معصوم بچیاں شہید ہوگئیں یہ حملہ ایران پر کی جانے والی مشترکہ امریکی-اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران ہوا، جسے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا گیا تھا ۔ تاہم، اس کارروائی میں مبینہ طور پر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے اس وقت خاک میں مل گئے جب میزائلوں نے اسکول کی عمارت کو تہس نہس کر دیا صبح کی خاموشی، دھماکوں میں بدل گئی میناب شہر کے رہائشیوں کے مطابق، صبح کا آغاز معمول کے مطابق ہوا تھا۔ بچے نئے تعلیمی ہفتے کے پہلے روز نئے جوش و جذبے سے اسکول گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، بمباری کی اطلاع ملتے ہی شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا ایک مقامی رہائشی نے بتایا دھماکے کی آواز اتنی زوردار تھی کہ پورا شہر لرز اٹھا۔ ہم فوری طور پر اسکول کی طرف بھاگے، لیکن جو منظر دیکھا وہ انتہائی تباہ کن تھا۔ عمارت مکمل طور پر گر چکی تھی، اور ہر طرف ملبے کے ڈھیر لگے تھے۔ بچوں کی کتابیں اور بستے خون آلود حالت میں بکھرے پڑے تھے نیویارک ٹائمز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو منزلہ اسکول کی عمارت کا کم از کم آدھا حصہ تباہ ہو چکا تھا۔ دیواروں پر بنے رنگ برنگے پھولوں کے نقش اب ملبے کا حصہ بن چکے تھے۔ ریسکیو ورکرز کے ساتھ ساتھ عام شہری اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا رہے تھے، اور کہیں سے انسانی اعضاء برآمد ہو رہے تھے ۔ایرانی ہلال احمر کے سربراہ پیرحسین کولیوند نے اس واقعے کو غیر معمولی اور تلخ ترین واقعہ”** قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں بھی ایک ساتھ اتنے بچوں کی ہلاکت کی مثال نہیں ملتی شہادت کا المیہ: 160 معصوم روحیں پرواز کر گئیں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے حوالے سے مختلف ادوار میں اطلاعات سامنے آئیں۔ ابتدائی اطلاعات میں 51 طالبات کی ہلاکت کی اطلاع تھی ، تاہم جیسے جیسہ ملبہ ہٹایا گیا، یہ تعداد بڑھتی گئی۔ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی IRNA کے مطابق، 28 فروری کو ہونے والے اس حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 115 سے تجاوز کر گئی ۔ بعد ازاں، میناب کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے 3 مارچ کو تصدیق کی کہ اس حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 165 ہے، جن میں زیادہ تر طالبات تھیں ۔ اطلاعات کے مطابق اسکول میں تقریباً 170 طالبات زیر تعلیم تھیں ۔ایرانی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمانپور نے اس واقعے کو دلخراش ترین خبر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خدا ہی جانتا ہے کہ ملبے سے مزید کتنے بچے نکالے جائیں گے ۔ فوجی اڈے کی قربت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اس واقعے نے اسرائیل اور امریکہ کے اس دعوے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے CNN کی جانب سے ویڈیو فوٹیج کی تصدیق کے مطابق، یہ اسکول ایرانی انقلابی گارڈز کور (IRGC) کے ایک بحری اڈے سے محض 200 فٹ (تقریباً 61 میٹر) کے فاصلے پر واقع ہے ۔نیویارک ٹائمز کی جانب سے حاصل کردہ سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ 2013 میں یہ اسکول کی عمارت فوجی اڈے کا حصہ تھی، لیکن ستمبر 2016 تک اسے اڈے سے علیحدہ کر دیا گیا تھا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں فوجی تنصیبات کا ہونا خطرے کو بڑھاتا ہے، لیکن بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت فریقین کو شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لیے ہر ممکن احتیاط برتنی ہوتی ہے۔ ہنگاو انسانی حقوق تنظیم نے اس حوالے سے کہا کہ فوجی سہولیات کو اسکولوں اور عوامی مقامات کے قریب قائم کرنا اور پھیلانا شہریوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔عالمی برادری کی مذمت، تحقیقات کا مطالبہ اس واقعے نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے۔ ایران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اسکول کی تباہ شدہ تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے عوام کے خلاف یہ جرائم بلا جواب نہیں رہیں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے صریح جرم قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے لیے مخصوص جگہ پر طالب علموں کا قتل بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسکولوں کو دیے گئے تحفظ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ نوبل انعام یافتہ فعالیت پسند ملالہ یوسفزئی نے اس واقعے پر دل شکستگی اور غیظ و غضب کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا وہ بچیاں تھیں جو سیکھنے اسکول گئی تھیں، ان کے دلوں میں اپنے مستقبل کی امیدیں اور خواب تھے۔ آج ان کی زندگیاں بے رحمی سے ختم کر دی گئیں۔امریکہ و اسرائیل کا مؤقف تاہم، حملے کے ذمہ داران کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا ہے کہ وہ شہری ہلاکتوں کی ان رپورٹس کی تحقیق کر رہے ہیں اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے کہا کہ وہ اسکول پر کسی اسرائیلی یا امریکی حملے سے باخبر نہیں ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اگر یہ حملہ امریکہ نے کیا تو محکمہ دفاع تحقیقات کرے گا، اور یہ کہ امریکہ جان بوجھ کر اسکولوں پر حملہ نہیں کرتا اجتماعی نمازِ جنازہ: غم کا سمندر اُمڈ پڑا ہفتے کے روز ہونے والے اس قتل عام کے بعد، اتوار اور پیر کے روز میناب شہر سوگ میں ڈوب گیا۔ ہسپتالوں کی محدود گنجائش کے پیش نظر شہداء کی نعشوں کو حوالے کرنے کے لیے قریبی علاقوں میں خاندانوں کے لیے مخصوص جگہیں بنائی گئیں آخر کار 3 مارچ بروز منگل، ان 160 معصوم شہداء کی اجتماعی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ نمازِ جنازہ میں شہر کے علاوہ دور دراز سے آنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ فضا بین ماتم داروں کی آہ و بکا سے گونج رہی تھی۔ باپ اپنی بیٹیوں کی قمیضیں اٹھائے رو رہے تھے تو مائیں بے بسی سے اپنے لہو کے ٹکڑوں کی تصویریں سینے سے لگائے ہوئے تھیں۔نمازِ جنازہ کی امامت مقامی عالم دین نے کی، جن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ انہوں نے دعا میں کہا کہ اللہ تعالیٰ ان معصوم فرشتوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کے سوگوار خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ المیہ نہ صرف ایران بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک داغ ہے۔ میناب کا یہ اسکول، جو کبھی علم کی روشنی پھیلاتا تھا، اب ظلم و بربریت کی ایک تاریک علامت بن گیا ہے۔ تاہم، اس تباہی کے ملبے تلے دبے بچوں کے خواب اور ان کے خاندانوں کا درد، امن اور انصاف کی عالمی کوششوں کو ایک نیا راستہ دکھانے کا پیغام دے رہا ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *