سرگودھا: عید سے قبل تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ، ڈبل پارکنگ پر سخت کارروائی کا حکم


سرگودھا: عید سے قبل تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی نافذ، ڈبل پارکنگ پر سخت کارروائی کا حکم سرگودھا عیدالفطر کی آمد کے پیش نظر شہر کے مصروف بازاروں میں تجاوزات کے خاتمے اور ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے زیرو ٹالرینس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کمشنر سرگودھا نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بازاروں میں کسی بھی قسم کی تجاوزات اور ڈبل پارکنگ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بھاری جرمانے اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔انتظامیہ کے مطابق عید کی خریداری کے باعث بازاروں میں رش بڑھنے کے پیش نظر خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو خریداری میں سہولت فراہم کی جا سکے اور ٹریفک کی روانی برقرار رہے۔ اس سلسلے میں شہر کے بڑے بازاروں میں پارکنگ کے لیے مخصوص مقامات مقرر کیے جا رہے ہیں تاکہ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کرنے کی روایت کو ختم کیا جا سکے۔کمشنر سرگودھا نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بازاروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک کی بہتر نگرانی کی جائے اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ڈبل پارکنگ شہر میں ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔اسی سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے اردو بازار کو عید سے قبل پیڈسٹرین بازار بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جہاں صرف پیدل خریداروں کو آنے کی اجازت ہوگی جبکہ موٹر سائیکل اور گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو محفوظ اور پرسکون ماحول میں خریداری کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
مزید برآں کمشنر نے سٹی روڈ اور کچہری بازار میں جاری ترقیاتی کاموں کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی کہ تمام ترقیاتی منصوبے 31 مئی تک ہر صورت مکمل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔کمشنر سرگودھا کا کہنا تھا کہ عید کے موقع پر شہریوں کو بہترین سہولیات فراہم کرنا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، اس لیے تمام متعلقہ محکمے متحرک رہیں اور بازاروں میں صفائی، ٹریفک مینجمنٹ اور تجاوزات کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے شہریوں اور تاجروں سے بھی اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں تاکہ عید کی خریداری کے دوران کسی کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *