بہن کی طلاق کا بدلہ بیرون ملک سے انتقام کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص پولیس مقابلوں میں ہلاک


بہن کی طلاق کا بدلہ بیرون ملک سے انتقام کی منصوبہ بندی کرنے والا شخص پولیس مقابلوں میں ہلاک – اس خبر کے پیش نظر، آپ کی درخواست کے مطابق اس واقعے کو انسانی زاویے سے نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔ بہن کی طلاق کا بدلہ لینے چلا تھا، بیرون ملک بیٹھے بھائی کی منصوبہ بندی پولیس مقابلے میں ہلاکت پر ختم

**انسانی جذبات کی انتہا کبھی کبھی انسان کو ایسے راستوں پر لے جاتی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ خاندان کی عزت، بہن کی تذلیل کا غصہ، اور انتقام کی آگ نے ایک شخص کو بیرون ملک بیٹھے قتل کی منصوبہ بندی تک پہنچا دیا، مگر انجام وہ ہوا کہ منصوبہ ساز خود ہی پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔**

یہ کہانی ہے ایک بھائی کی، جس کے لیے اس کی بہن کی طلاق کسی المیے سے کم نہ تھی۔ پرورش کا زمانہ تھا یا جوانی کے دن، دونوں نے ساتھ گزارے تھے۔ جب بہن کی شادی ہوئی تو گھر کے آنگن میں خوشیاں بھری تھیں۔ مگر کچھ ہی عرصے بعد بیٹی اپنے میکے واپس آ گئی۔ طلاق کے الفاظ جیسے آگ کا شعلہ بن کر پورے خاندان میں پھیل گئے۔

## دل میں سلگتا دکھ

بھائی بیرون ملک روزی کمانے گیا ہوا تھا۔ وہاں بیٹھے اس نے سنا کہ اس کی بہن کو اس کے شوہر نے ذلیل کیا، ستایا، اور آخر کار طلاق دے دی۔ دوری نے اس کے غصے کو اور ہوا دی۔ جو شخص اس کی بہن کی آنکھوں میں آنسو لا سکتا ہے، وہ اس کی نگاہوں میں موت کا مستحق ٹھہرا۔ سمندر پار بیٹھے اس نے ایک ایسا منصوبہ بنایا جو خون سے خون کا بدلہ لینے کی کہانی تھی۔

وہ چاہتا تھا کہ اس کی بہن کو جس نے بےعزت کیا، اسے خود عزت سے محروم کر دیا جائے۔ اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا جائے۔ اس منصوبے میں شریک افراد بھی مل گئے۔ پیسے بھی لگے، رابطے بھی قائم ہوئے، اور سازش کے تار یہاں تک بچھے کہ سابق بہنوئی کو اب کسی بھی وقت انتقام کا نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔

## انٹیلی جنس کی نظر

مگر جیسا کہ کہتے ہیں، قاتل کے قدم چھپ نہیں سکتے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس قتل کی سازش کی بھنک لگ گئی۔ بیرون ملک بیٹھا ماسٹر مائنڈ شاید سمجھ رہا تھا کہ وہ محفوظ فاصلے پر ہے، مگر پولیس کی انٹیلی جنس نے اس کی ہر حرکت پر نظر رکھی ہوئی تھی۔

وہ دن بھی آ گیا جب یہ سازش عملی جامہ پہنانے والے اپنے ہدف کے قریب پہنچے۔ لیکن پولیس نے گھیر لیا۔ مبینہ مقابلے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جب گولیاں تھمیں تو منظر نامہ صاف تھا: بیرون ملک سے انتقام کی منصوبہ بندی کرنے والا بھائی، اور اس کے ساتھی، پولیس کی زد میں آ کر ہلاک ہو چکے تھے۔

## بچا کیا؟

آج وہ بھائی، جو بہن کے دکھ میں پہاڑ بنا کھڑا ہوا تھا، خود مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے۔ اس کی بہن جس کے لیے وہ اتنا کچھ کر گزرا، آج اس کے پاس آنسو بھی نہیں، شاید دعائیں بھی نہیں۔ ایک دکھ نے جنم دیا تھا دوسرے دکھ کو، اور دکھوں کا یہ سلسلہ کہیں کا کہیں جا کر ختم ہوا۔

طلاق کے بعد عورت کو انصاف دلانے کا حق قانون کے پاس ہے۔ عدالتیں ہیں، قانونی چارہ جوئی ہے۔ مگر جب جذبات قانون پر بھاری پڑ جاتے ہیں، اور انسان انتقام کو انصاف سمجھ لیتا ہے، تو انجام خونریزی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہی ثابت کیا ہے کہ نفرت اور انتقام کی راہیں کبھی منزل تک نہیں پہنچاتیں۔ یہ صرف مزید تباہی، مزید غم، اور مزید بےیقینی کی طرف لے جاتی ہیں۔

بیرون ملک بیٹھے بھائی کی آنکھوں میں خواب تھے بدلے کے، مگر اس کی آنکھیں پولیس کی گولیوں سے کھلی رہ گئیں۔ اس کی بہن آج ایک بار پھر بےیار و مددگار ہے، لیکن اس بار وہ بھائی اسے تسلی دینے کے لیے بھی نہیں آ سکتا۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *