
سرگودھا بی آئی ایس پی کوٹمومن میں کرپشن کا بازار گرم
سرگودھا کٹوتی مافیا اور افسران کا مبینہ گٹھ جوڑ بے نقاب
سرگودھا تحصیل کوٹ مومن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) غریب خواتین کے لیے سہارا بننے کے بجائے مبینہ طور پر کرپشن اور لوٹ مار کا گڑھ بن چکا ہے۔ تبادلہ ہونے کے باوجود اسسٹنٹ ڈائریکٹر (AD) خالد محمود کی علاقہ میں موجودگی اور “رومنگ ڈیوائسز” کے ذریعے غریب خواتین سے لاکھوں روپے کی کٹوتی نے وفاقی حکومت کے شفافیت کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
سرگودھا رومنگ ڈیوائسز اور غیر قانونی کٹوتیاں
ذرائع کے مطابق کوٹ مومن شہر میں ایک بھی آفیشل ڈیوائس فعال نہیں ہے، جبکہ مختلف ایجنٹس “رومنگ ڈیوائسز” لے کر گلی محلوں میں بیٹھ جاتے ہیں۔ ان ڈیوائسز کے ذریعے ہر مستحق خاتون کی قسط سے 1500 سے 2000 روپے تک کی غیر قانونی کٹوتی روزانہ کا معمول بن چکی ہے۔
سرگودھا حیرت انگیز انکشاف یہ ہوا ہے کہ اے ڈی خالد محمود کا تبادلہ حافظ آباد ہو چکا ہے، مگر وہ تاحال کوٹ مومن میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
سرگودھا چک نمبر 10 جنوبی کا واقعہ: شہریوں کی شکایت پر جب اے ڈی خالد محمود اور عارف پولیس کے ہمراہ موقع پر پہنچے، تو وہاں شخص سرِ عام ڈیوائس چلا رہا تھا۔ تاہم، کارروائی کرنے کے بجائے افسران خاموشی سے واپس لوٹ گئے اور کٹوتی کا عمل بلا روک ٹوک جاری رہا۔
سرگودھا مٹیلا اور غوث والا: مٹیلا میں خواتین سارا دن ذلیل و خوار ہوتی ہیں جبکہ ڈیوائسز غائب کر دی جاتی ہیں۔ غوث مومن والا میں دکانیں بند کر کے خفیہ مقامات پر کٹوتیاں کی جا رہی ہیں۔
سرگودھا اہلِ علاقہ کا الزام ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی یہ لاکھوں روپے کی کٹوتی اوپر تک جاتی ہے، جس میں بی آئی ایس پی تحصیل کوٹمومن کے متعلقہ افسران اور ایچ بی ایل (HBL) کے بی ڈی او صاحبان مبینہ طور پر اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ اسی ملی بھگت کی وجہ سے ایجنٹ مافیا کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
سرگودھا اہلِ علاقہ اور سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر برائے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام روبینہ خالد سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تحصیل کوٹ مومن کا ہنگامی دورہ کیا جائے۔
سرگودھا تبادلہ ہونے کے باوجود کوٹمومن میں مداخلت کرنے والے افسران کے خلاف انکوائری کی جائے۔
سرگودھا کرپشن میں ملوث بی ڈی او صاحبان اور ایجنٹوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے۔
سرگودھا عوام کا کہنا ہے کہ اگر غریب کی حق تلفی بند نہ ہوئی تو وہ شدید احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
