
وہاڑی ایک طرف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے صوبے میں صحت کے نظام کو مثالی بنانے کے بلند و بانگ دعوے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ڈی ایچ کیو ہسپتال وہاڑی کی ایمرجنسی فی میل وارڈ میں جاری بدانتظامی ان دعوؤں کا منہ چڑا رہی ہے اور زمینی حقائق کی ایک تلخ تصویر پیش کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ایمرجنسی وارڈ میں تعینات ڈاکٹر عثمان کا رویہ مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں۔ شکایات کے مطابق ڈاکٹر کی جانب سے نہ صرف غیر اخلاقی اور توہین آمیز گفتگو کی جاتی ہے بلکہ مریضوں کو بروقت چیک کرنے کے بجائے بدتمیزی اور سخت لہجے سے پیش آنا معمول بن چکا ہے۔ خواتین مریض، جو پہلے ہی تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہوتی ہیں، اس غیر انسانی سلوک کے باعث مزید ذہنی کرب کا شکار ہو رہی ہیں۔عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ طبی پیشہ انسانیت کی خدمت کا نام ہے، مگر یہاں اس پیشے کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ ایسے رویے نہ صرف مریضوں کے اعتماد کو بری طرح مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے سرکاری صحت کے نظام پر ایک بدنما داغ بن چکے ہیں۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے بارہا شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جو انتظامی نااہلی اور مجرمانہ غفلت کا واضح ثبوت ہے۔ انتظامیہ کی خاموشی نے حالات کو مزید خراب کر دیا ہے اور ذمہ دار عناصر کو کھلی چھوٹ مل چکی ہےشہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی جائے، ڈاکٹر کے رویے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور الزامات ثابت ہونے کی صورت میں سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے معاملہ وزیراعلیٰ ہاؤس اور اعلیٰ حکام تک لے جایا جائے گا۔
