
کراچی وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انفرااسٹرکچر کے تین اہم منصوبوں کورنگی کاز وے، شاہراہ بھٹو اور کریم آباد انڈر پاس کے کام کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کام کے بہتر معیار اور رفتار میں اضافے کے واضح احکامات جاری کیے۔وزیراعلیٰ سندھ کے ہمراہ صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن اور سید ناصر شاہ کے ساتھ ساتھ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بھی تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہماری پوری توجہ عوامی مسائل کے فوری حل اور تمام تر رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا ہےکہ شہریوں کو بنا کسی تکلیف کے نقل و حرکت کی سہولیات میسر آسکیں۔
کورنگی کاز وے:
وزیراعلیٰ سندھ نے اپنے دورے کا آغاز کورنگی کاز وے کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیتے ہوئے کیا جہاں مون سون کے دوران سیلابی صورتحال اور بار بار کی بندش سے بچنے کے لیے اس کی نئے سرے سے تعمیر ، ایلیویشن اور پائیدار ی کا کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ترقیاتی کاموں کے باعث شہریوں اور اہم صنعتی شعبے سےوابستہ افراد کو پہنچنے والی تکالیف پر معذرت کی۔ انہوں نے کہا کہ کورنگی کاز وے ایک اہم شاہراہ ہے۔ اس کی بار بار بندش سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کراچی کی معاشی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر بلدیات ناصر شاہ کو فوری طور پر عملہ اور آلات کی فراہمی کو بڑھانے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ کام پر پوری قوت صرف کی جائے اورکام کو حصوں حصوں میں تقسیم کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس میں زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ مجھے باقاعدہ پائیدار انداز میں کام ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے ۔ مرادعلی شاہ نے ٹریفک پولیس کے ساتھ بہتر کوآرڈینیشن کی ضرورت پر زور دیا اور کاز وے کے مکمل فعال ہونے تک شہریوں کو آسان و متبادل راستہ فراہم کرنے ہدایت کی۔
شاہراہ بھٹو (مرغی خانہ تا سموں گوٹھ):
وزیر اعلیٰ سندھ نےشاہراہ بھٹو پر 15 کلومیٹر طویل سیکشن I مرغی خانہ کے کام کا جائزہ لیا۔ وزیر بلدیات ناصر شاہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 98 فیصد فزیکل ورک مکمل ہو چکا ہے اور کام حتمی مراحل میں ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے مکمل شدہ حصوں کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ شاہراہ بھٹو شہر کے لوگوں کے لیے ایک اہم راہداری ہے، باقی ماندہ کام کو جلد مکمل کریں تاکہ اسے دسمبر 2025 یا جنوری 2026 تک عوام کے لیے مکمل طور پر کھولا جاسکے ۔
مرادعلی شاہ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر سائن بورڈ کی تنصیب اور لینڈا سکیپنگ کا کام شروع کریں۔ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر ہونا چاہیے اور عوام کو اس سیکشن کے کھلتے ہی فرق محسوس ہوناچاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ منصوبے کے افتتاح سے قبل میں اس کی فائنل کوالٹی ضرور چیک کروں گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہ بھٹو کے سموں گوٹھ سیگمنٹ کا بھی دورہ کیا جہاں ایلیویٹڈ پورشن زیر تعمیر تھا۔ انہوں نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ کام کی رفتار تیز کی جائے تاکہ اگلے دو ماہ میں اسے ٹریفک کے لیے کھولا جا سکے۔
کریم آباد انڈر پاس:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے زیر تعمیر کریم آباد انڈر پاس کا دورہ کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے کام کرنے کی ہدایت کی۔ انڈر پاس کو ضلع وسطی میں ٹریفک کے شدید بہائو کو کم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو کہ ایک اہم منصوبہ ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نےا سٹرکچرل اور فنشنگ کے کاموں کا جائزہ لیا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ اس منصوبے پر 85 فیصد فزیکل ورک مکمل ہو چکا ہے، جس میں 6.1 میٹر چوڑا ڈوئل ٹریک (2+2 لین) ہے اور اسے3.81 بلین ڈالر سے تعمیر کیاجارہا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہاں شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس انڈر پاس کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کو ہدایت کی کہ جہاں ضروری ہو وہاں چوبیس گھنٹے کام کیا جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ٹیم کو ہفتہ وار پیشرفت کی رپورٹ براہ راست اپنے دفتر میں جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کسی قسم کا کوئی عذر نہیں چاہیے، کام کی رفتار بڑھائیں اور اعلیٰ معیار کا مٹیریل استعمال کریں ۔ کراچی پائیدار انفراسٹرکچر کا حقدار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے پروجیکٹ ڈائریکٹرز اور انجینئرز کو اپنا واضح پیغام دیا کہ سندھ حکومت شہری سہولیات کو بہتر سے بہتر کرنے کا عزم رکھتی ہے۔کراچی کو تیز رفتار، محفوظ اور جدید انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔ یہ منصوبے صرف سڑکیں نہیں ہیں بلکہ یہ شہر کی معیشت اور روزمرہ کی زندگی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔وزیراعلیٰ سندھ نے تمام ایگزیکیوٹنگ ایجنسیوں کو ہر طرح کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی ہدایت کی۔
عبدالرشید چنا
میڈیا کنسلٹنٹ، وزیراعلیٰ سندھ
