
جنوبی افریقہ میں خواتین کے خلاف تشدد کو قومی آفت قرار دے دیا گیا ہے، یہ تاریخی فیصلہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں اور وسیع پیمانے پر آن لائن مہم کے بعد سامنے آیا ہے۔
خواتین نے ایک دن کے لیے معیشت سے دستبردار ہونےکے مطالبے کے تحت جمعے کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے 15 منٹ کے لیے لیٹنے کی احتجاجی کارروائی کی۔ یہ علامتی عمل ملک میں روزانہ قتل ہونے والی 15 خواتین کی یاد میں تھا۔
حکومت نے ابتدائی طور پر اس درجہ بندی سے انکار کیا تھا، لیکن تشدد کے مستقل خطرات کا جائزہ لینے کے بعد اپنا موقف تبدیل کر دیا۔ کوآپریٹو گورننس کے وزیر ویلنکوسینی ہلبیسا نے تصدیق کی کہ قومی آفات کے مرکز نے صنفی بنیاد پر تشدد اور خواتین کے قتل کو آفت قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے سے پہلے جمعے کو ملک بھر میں کیپ ٹاؤن، ڈربن اور جوہانسبرگ سمیت 15 مقامات پر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔ احتجاج میں شامل افراد نے سیاہ لباس پہن کر اپنے غم اور مزاحمت کا اظہار کیا۔
ویمن فار چینج” نامی تنظیم کی قیادت میں چلائی جانے والی اس مہم کو بین الاقوامی حمایت بھی حاصل ہوئی، جس میں ایسواتینی، کینیا اور نمیبیا کے عوام نے بھی شرکت کی۔ آن لائن پٹیشن پر دس لاکھ سے زائد دستخط جمع ہوئے، جبکہ سوشل میڈیا پر جامنی رنگ کی پروفائل پکچرز کے ذریعے آگاہی پھیلائی گئی۔
صدر سیرل رامافوسا نے گزشتہ برسوں میں اس مسئلے کو قومی بحران قرار دیا تھا، اور اب اسے قومی آفت کی سطح تک لے جایا گیا ہے۔ اس درجہ بندی سے سرکاری محکمے اپنے بجٹ کو اس مسئلے کے حل کے لیے بروئے کار لا سکیں گے۔
ویمن فار چینج کی ترجمان کیمرون کسمبالا کے مطابق، اس فیصلے سے پہلے تک حکومتی اقدامات میں عملی نفاذ کی کمی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے تشدد کو اپنی ثقافت اور سماجی اصولوں کا حصہ بنا لیا ہے”، اور اب حکومت کے اس فیصلے سے زمینی سطح پر تبدیلی کے آثار نظر آئیں گے۔
یہ فیصلہ جنوبی افریقہ کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے، جہاں اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین کے قتل کی شرح عالمی اوسط سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
