ڈاکوؤں سے کہتا ہوں ہتھیار پھینک دیں۔ضیاء الحسن لنجار


ڈاکوؤں سے کہتا ہوں ہتھیار پھینک دیں۔ضیاء الحسن لنجار

کراچی : ( رپورٹ : محمد حسین سومرو) وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس۔ گھوٹکی میں ڈاکوؤں کے خلاف میگا آپریشن کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔وزیر داخلہ سندھ ڈاکوؤں سے کہتا ہوں ہتھیار پھینک دیں۔ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت سکھر اور لاڑکانہ رینجز میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو،ڈی آئی جی سکھر ناصر آفتاب، سمیت متعلقہ ضلعی ایس ایس پیز نے شرکت کی۔اس موقع پر آئی جی سندھ،ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی نے جرائم کے خلاف جاری پولیس اقدامات، آپریشنل پیش رفت اور حاصل کردہ کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ کچہ اور پکا ایریاز دونوں میں پولیس دستے مکمل طور پر متحرک اور مستعد ہیں، ڈاکوؤں کی کمین گاہوں کو مسمار کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے سہولتکاروں کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سرویلنس اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر کا مؤثر تعاقب کیا جا رہا ہے اور کچہ کے علاقوں میں پولیس کی مستقل موجودگی سے جرائم کی بیخ کنی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ آپریشن کے دوران غلطیاں ہوجاتی ہیں اور اگر کوئی مشکل پیش آتی ہے تو حکومت سندھ پولیس کے ساتھ کھڑی ہے

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو تسلی بخش اور قابلِ تحسین قرار دیا اور ہدایت کی کہ کچہ اور پکا ایریاز میں جرائم کے مکمل خاتمے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
وزیر داخلہ سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ گھوٹکی سے ڈاکوؤں کے خلاف شروع کیئے جانیوالے میگا آپریشن کے لیے درکار لاجسٹک سپورٹ،جدید ڈرون، اسلحہ،گولہ بارود اور گاڑیوں سے متعلق سفارشات فوری طور پر ارسال کی جائیں، جنہیں بلا تاخیر منظور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ آپریشن کی ضروریات/وسائل وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں،لہٰذا متعلقہ ادارے بروقت آگاہ رکھیں تاکہ میگا آپریشن کسی بھی لمحے متاثر نہ ہوسکے اور ان درندہ صفت انسانیت دشمن عناصر کی بیخ کنی کا سلسلہ بلاتعطل جاری رکھا جاسکے،وزیر داخلہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میگا آپریشن کو وہ خود لمحہ بہ لمحہ مانیٹر کریں گے۔

اجلاس کے دوران وزیر داخلہ سندھ نے آئی جی سندھ کو ہدایات دیں کہ وہ بذات خود آئی جی پنجاب اور آر پی او بہاولپور سے رابطہ کریں اور انھیں اعتماد میں لے کر مشترکہ میگا آپریشن کے حوالے سے بھی جملہ ضروری اقدامات کو یقینی بنائیں،انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب پولیس کے باہمی تعاون سے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں اور آئندہ بھی مشترکہ حکمت عملی کے تحت اقدامات جاری رہیں گے۔اس موقع پر آئی جی سندھ نے اجلاس کو ہدایات دیں کہ میگا آپریشن کے حوالے سے درکار وسائل پر مشمل سفارشات جلد ارسال کی جائیں تاکہ حکومت سندھ کی جانب سے جملہ سپورٹ اور توثیقی اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ سکھر اور لاڑکانہ رینج کے حکام سے تفصیلی ملاقات اور میٹنگ ہوئی ہے اور آج کے بعد سکھر اور کشمور کے اضلاع پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ سے اغواء ہونے والے افراد کو پنجاب سے بازیاب کرایا گیا جس میں رینجرز اور دیگرسیکیورٹی اداروں کا بھرپور تعاون حاصل رہا،جس پر ہم پنجاب حکومت کے شکر گزار ہی۔
وزیر داخلہ سندھ نے واضح کیا کہ نامی گرامی ڈاکو ہوں یا کوئی بھی مجرم، قانون سب کے لیے برابر ہے اور سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ صحافی جان محمد مہر کے قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا اور سندھ پولیس اس صلاحیت کی حامل ہے کہ حالات پر مکمل کنٹرول رکھ سکے، فوج کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں کو آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہو جائیں، بصورت دیگر ریاستی قوت کے ذریعے ان کا قلع قمع کیا جائے گا۔
آخر میں وزیر داخلہ سندھ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *