
میجر (ر) ساجد مسؔعود صادق نظامی
12 مہاجرین سیٹیں تحلیل کرنے کا عام فہم کشمیریوں یا پاکستانیوں کو علم نہیں کہ ان کا کشمیر کی آزادی سے ڈائریکٹ تعلق ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پورے پاکستان میں سیاسی و معاشی عدمِ استحکام کس کا ایجنڈا ہے اور اس کے پیچھے کون ہے۔ اس کے پیچھے مکروہ بھارتی چہرہ اور اس کے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ مخالف (در اصل پاکستان مخالف) وہ گماشتے ہیں جو پاکستان میں کسی بھی قسم کے انتشار کا حصے بننے اور اسے سپورٹ کرنے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔ “مہاجرین کی 12 سیٹیں اسٹیبلشمنٹ یا مرکزی حکومتی ٹُول” جسے آزاد کشمیر کی حکومتیں تبدیل کرنے کے لیئے استعمال کیا جاتا ہے، جیسا بیانیہ کہاں سے آیا اور اس کے پیچھے کونسی پارٹی، تنظیم یا گروہ ہوسکتا ہے؟ “شوکت نواز میر” کی آڈیو لیک سے جو معلومات ملی ہیں یہ معلومات پی ٹی آئی کی 9 مئی والی سازش سے گہری مشابہت اور مطابقت رکھتی ہیں۔ یہ شک اُس وقت یقین میں بدل جاتا ہے جب تمام مطالبات کو چھوڑ کر ایک ایسا مسئلہ اُٹھایا جاتا ہے جس سے “کشمیر کاز” کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
12 مہاجرین کی سیٹوں کا “کشمیر کاز” سے آخر تعلق ہے کیا؟ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی آبادی تقریباً ایک کروڑ25 لاکھ ہے جبکہ 50 لاکھ کے قریب آزاد کشمیر میں کشمیری بستے ہیں۔ پورے پاکستان کے دیگر علاقوں میں بسنے والے کشمیریوں کی تعداد35 سے 40 لاکھ ہے۔ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ کے طور پر اپنے حل کی طرف بڑھتا ہے تو “یو این او” قراردوں کے مطابق ووٹنگ ہونی ہے جس میں ایک ایک ووٹ قیمتی ہوگا۔ بھارت پہلے ہی اٹھہتر سال سے مقبوضہ کشمیر کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی کوششیں کررہا ہے۔ اس ساری کوشش کا مقصد مقبوضہ کشمیر سے کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ کم کرنا ہے۔ یہ امر دلچسپ ہے کہ جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی توجہ اس بات کی طرف دلائی گئی کہ پورے پاکستان میں پھیلے کشمیر ووٹ کہاں دیں گے تو کمیٹی نے انتہائی ٹیڑھا اور نامعقول جواب دیتے ہوئے کہا کہ “مہاجرین کو پاکستانی شہریت دے دی جائے۔” گویا ووٹنگ کے اہم موقعہ پر کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں جو ووٹ پڑنے ہیں ان میں35 سے 40 لاکھ ووٹ کم ہوجائیں۔
کشمیر میں جاری بدامنی سیاحت کے عروج (پیک سیزن) کے دنوں میں سامنے آئی ہے۔ اس سیزن میں کاروباری حضرات، ہوٹل مالکان اور مقامی دکاندار اس اہم سیزن کے دوران جو منافع کما سکتے تھے اس سے کشمیر ی عوام کو محروم کون کرنا چاہتا ہے اور اس کے کشمیر پر ہی نہیں بلکہ پاکستانی معیشت پر بھی اثرات ہوں گے۔ اس وقت طویل بدامنی کی وجہ سے پورے راولا کوٹ سیکٹر میں اشیائے خوردونوش اور ایندھن (فیول) کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔تجارتی سامان منتقل کرنے والے ٹرانسپورٹرز اور ٹرک ڈرائیورز سیکیورٹی کے شدید خطرات اور اپنی املاک کو نقصان پہنچنے کے خوف سے متاثرہ علاقوں میں اپنی گاڑیاں بھیجنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ اس پر مزید مقامی املاک کو لوٹنے اور توڑ پھوڑ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس صورتحال نے سویلین آبادی کی پریشانی اور ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ سردار امان کی تقریر، محبوبہ مُفتی کی کشمیریوں سے اپیل، اور فیاض میر اور سردار خیام کشمیری کی آڈیو لیک سےپتا چلتا ہے کہ کمیٹی لاشوں کی سیاست کے ذریعے بھارتی ایجنڈےکے مطابق کشمیریوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے
اس وقت راولاکوٹ کے گردونواح میں مظاہرین کے تین الگ الگ گروپ تاحال موجود ہیں۔ یہ عناصر مسلح ہیں اور وقفے وقفے سے اسلحے کی نمائش کر رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان گروپوں کی جانب سے مقررہ حدود کو عبور کرنے اور آگے بڑھنے کی کوششوں کو کامیابی سے ناکام بناتے ہوئے انہیں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے اس معاملے میں بالکل واضح اور پرعزم ہیں کہ تشدد، لاقانونیت کو ہوا دینے یا امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی مزید کوئی بھی کوشش ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ جاری فتنہ اور احتجاج اسی مخصوص قیادت کے ٹولے کی کارستانی ہے جو راولاکوٹ میں بدترین پرتشدد کارروائیوں کا ذمہ دار ہے، جس میں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (CMH) پر نشانہ بنا کر کیا گیا حملہ اور بے گناہ شہریوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی ہلاکتیں شامل ہے۔ آزاد کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور تشدد پر اکسانے والی قیادت کی مانیٹرنگ (میپنگ) کی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے تمام فتنہ انگیز عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر متعلقہ قوانین کے تحت سخت ترین کارروائی متوقع ہے۔ان شرپسند عناصر پر ماضی میں ہونے والی ایف آئی آر گذشتہ سال کے معاہدے کی منسُوخی کے بعد دوبارہ فحال کی جا چکی ہیں۔ کمیٹی کے اس انتشاری پروگرام اور واضح نظریاتی تبدیلی سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے اندر موجود معتدل دھڑے مایوس نالاں ہیں جبکہ لائن آف کنٹرول (LoC) کے دونوں طرف سے اس کی سخت مذمت بھی کی جا رہی ہے۔ جنوبی اضلاع جیسے بھمبر اور میرپور سے اس جلوس میں شامل ہونے والے شرکاء کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی واپس لوٹ چکا ہے۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثریت صرف سوشل میڈیا کے لیے مواد (ویڈیوز/تصاویر) بنانے آئی تھی اور اپنا مقصد پورا ہوتے ہی واپس چلی گئی۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے ابھی تک تو انتہائی تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ ان شر پسند عناصر نے معصوم عوام کی آڑ لے رکھی ہے۔ لیکن حکومت کسی ناجائز مطالبے کو ماننے یا بلیک میلنگ میں ہرگز نہیں آنے والی۔
حکومت بچوں کے تحفظ کے لیئے والدین پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کالعدم تنظیم JAACکے شرپسند عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے اور پرتشدد و تخریب کارانہ احتجاج کا حصہ بننے سے روکیں۔ والدین کو جاننا چاہیئے کہ یہ لاشوں کے سوداگر ہیں اور کشمیریوں کے حقوق کے محافظ ہرگز نہیں بلکہ ان کا ایجنڈا اور پروگرام بیرونی ہیں اور بیرونی عناصر ہی انہیں کنٹرول کررہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں میں افواجِ پاکستان کے حق میں ریلیاں بھی نکل رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام میں اب یہ شعور بیدار ہوُچکا ہے کہ امن کے دُشمن سازشی عناصر اُن کے حقوق کی بجائے کسی اور مشن پر ہیں۔ یقیناً سوشل میڈیا پر پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جارہا ہے جن کے خلاف جلد کاروائی متوقع ہوسکتی ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کشمیری بہن بھائیوں کی جائز ضروریات اور حقوق سے ہرگز غافل نہیں اور ان کے مثبت رویے کا بہترین ثبوت پچھلے سال 38 میں سے 36 مطالبات کا ماننا ہے۔
حکومت بچوں کے تحفظ کے لیئے والدین پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کالعدم تنظیم JAACکے شرپسند عناصر کے ہاتھوں استعمال ہونے اور پرتشدد و تخریب کارانہ احتجاج کا حصہ بننے سے روکیں۔ والدین کو جاننا چاہیئے کہ یہ لاشوں کے سوداگر ہیں اور کشمیریوں کے حقوق کے محافظ ہرگز نہیں بلکہ ان کا ایجنڈا اور پروگرام بیرونی ہیں اور بیرونی عناصر ہی انہیں کنٹرول کررہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے مختلف علاقوں میں افواجِ پاکستان کے حق میں ریلیاں بھی نکل رہی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیری عوام میں اب یہ شعور بیدار ہوُچکا ہے کہ امن کے دُشمن سازشی عناصر اُن کے حقوق کی بجائے کسی اور مشن پر ہیں۔ یقیناً سوشل میڈیا پر پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کے خلاف پراپیگنڈا کرنے والے اکاؤنٹس کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جارہا ہے جن کے خلاف جلد کاروائی متوقع ہوسکتی ہے۔ عسکری اور سیاسی قیادت کشمیری بہن بھائیوں کی جائز ضروریات اور حقوق سے ہرگز غافل نہیں اور ان کے مثبت رویے کا بہترین ثبوت پچھلے سال 38 میں سے 36 مطالبات کا ماننا ہے۔
