
ایران پر فضائی حملے انسانی المیے کی داستان 787 شہید اور 153 شہر متاثر پچھلے 30 گھنٹوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں تشویش ناک حد تک کشیدگی بڑھی ہے، جہاں اسرائیلی اور امریکی افواج کی جانب کیے گئے فضائی حملوں میں ایران کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اطلاعات کے مطران میں تہران میں صدارتی دفتر اور قومی سلامتی کونسل کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جو کہ اس تنازع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
انسانی جانوں کا بھاری نقصان ایرانی ہلال احمر نے اس تازہ ترین امریکی-اسرائیلی جارحیت میں انسانی جانوں کے ضیاع کی تصدیق کرتے ہوئے انتہائی افسوسناک اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ تنظیم کے مطابق، ان حملوں میں اب تک **787 افراد شہید ہو چکے ہیں وسیع پیمانے پر تباہی یہ صرف ایک یا دو شہروں تک محدود حملہ نہیں تھا، بلکہ ایران کے طول و عرض میں ایک وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی گئی۔ ہلال احمر کے مطابق نشانہ بننے والے شہر امریکی اور اسرائیلی حملوں میں 153 ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا ۔
حملوں کی شدت ان 153 شہروں میں 500 سے زائد مختلف مقامات پر مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد حملے کیے گئے۔ ہدف بننے والے مقامات ان حملوں میں صدارتی دفتر اور سلامتی کونسل کی عمارت سمیت متعدد سرکاری اور فسی عمارتیں شامل تھیں، جن کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ ان پر تقریباً 100 طیاروں نے بمباری کی اور 2000 سے زائد بم گرائے یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ محض فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک وسیع تر انسانی تباہی ہے، جس نے لاکھوں عام شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کیا ہے۔ میلوں تک پھلا دھواں اور ملبہ، زخمیوں کی چیخیں اور شہداء کے سوگ میں بیٹھے خاندان اس جنگ کی اصل تصویر ہیں۔ عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور اس انسانی المیے کو روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔
