سرگودھا میں سینکڑوں غیر معیاری ٹیسٹ لیبارٹریاں، مریضوں کی زندگیاں خطرے میں نان پروفیشنل عملہ، مختلف لیبارٹریوں سے ایک ہی مریض کے الگ الگ رزلٹ — محکمہ صحت کی مبینہ خاموشی اور منتھلی وصولی کے الزامات
سرگودھا میں نجی ٹیسٹ لیبارٹریوں کا کاروبار بے قابو ہو چکا ہے جہاں سینکڑوں لیبارٹریاں مبینہ طور پر بغیر مناسب اجازت، معیار اور مستند عملے کے کام کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق بیشتر لیبارٹریوں میں نان پروفیشنل افراد مریضوں کے خون اور دیگر طبی ٹیسٹ کر رہے ہیں جس سے نہ صرف رپورٹوں کی درستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں بلکہ مریضوں کی زندگیاں بھی شدید خطرے میں پڑ چکی ہیں۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک ہی مریض سرگودھا کی مختلف 10 لیبارٹریوں سے ایک ہی ٹیسٹ کروائے تو ہر جگہ سے مختلف نتیجہ سامنے آتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال انتہائی خطرناک ہے کیونکہ غلط رپورٹس کی بنیاد پر ڈاکٹر غلط تشخیص اور غلط علاج کر سکتے ہیں جس کے نتائج بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتے ہیں۔شہر میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ آخر ان لیبارٹریوں کو کھولنے کی اجازت کس نے دی کیا ان کے پاس باقاعدہ لائسنس اور مستند پیتھالوجسٹ موجود ہیں یا نہیں اور اگر نہیں تو پھر محکمہ صحت ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہا
ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بعض لیبارٹریاں ڈاکٹرز کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے تحت چل رہی ہیں جہاں مریضوں کو مخصوص لیبارٹریوں میں ٹیسٹ کروانے کیلئے بھیجا جاتا ہے اور اس کے بدلے کمیشن لیا جاتا ہے۔ اس عمل نے طبی شعبے کو ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مریض کی صحت سے زیادہ مالی مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔شہریوں کا یہ بھی الزام ہے کہ محکمہ صحت کے بعض اہلکار مبینہ طور پر لیبارٹری مالکان سے منتھلی وصول کر کے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے غیر معیاری لیبارٹریوں کا جال پھیلتا جا رہا ہے۔سماجی حلقوں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سرگودھا میں قائم تمام نجی لیبارٹریوں کا فوری آڈٹ کیا جائے، غیر قانونی اور غیر معیاری لیبارٹریوں کو سیل کیا جائے اور اس سنگین معاملے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔
