
واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان حالیہ ہفتوں میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ نے روس کی تیل کی بڑی کمپنیوں، روسنیفت اور لوک اوئل پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں جبکہ روس نے اپنے نئے جوہری طاقت سے چلنے والے بورویسٹنک کروز میزائل اور زیر آب ڈرون پوسائیڈن کا تجربہ کیا ہے۔
دونوں ممالک نے کہا ہے کہ وہ جوہری تجربات دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔ نہ صرف دونوں ممالک خطرات مول لے رہے ہیں بلکہ اس وقت (یوکرین میں) جنگ بھی جاری ہے۔
اس برس دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں قدرے بہتری آئی جو کہ ایک قابل ذکر پہلو ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب صدر بنے تو انھوں نے پوتن سے اچھے تعلقات قائم رکھنے اور یوکرین جنگ کے خاتمے کا وعدہ کیا۔
تاہم یہ جنگ جاری ہے اور اس وقت امریکہ اور روس جنگ بندی سے متعلق تجاویز کے تبادلے کے بجائے ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ابھی تک ٹرمپ کی ذاتی سفارتکاری متوقع نتائج نہیں لا سکی ہے؟
