
سرگودھا کی معروف آبادی ظفر کالونی میں ان دنوں المناک صورتِ حال ہے۔ گلیوں میں گندگی کے انبار گٹروں سے ابلتا ہوا میلہ پانی، اور بدبو کا ایسا عالم کہ گزرنا دشوار ہو گیا ہے۔ صبح کے وقت جب لوگ کام پر نکلتے ہیں، تو پیر رکھنے کی جگہ نہیں ملتی۔ بچے اس کیچڑ اور پانی میں کھیلتے پھر رہے ہیں، بوڑھے اپنے گھروں سے باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں، اور خواتین کو گلیوں میں پھیلی گندگی کے باعث شدید پریشانی کا سامنا ہے۔خاص طور پر نماز کے اوقات میں مسجد جانے والے لوگوں کے کپڑے راستے میں گندے پانی اور کیچڑ کی وجہ سے ناپاک ہو جاتے ہیں، جس سے ان کی عبادت میں بھی خلل پڑتا ہے۔ بار بار کونسلر چوکیدار اور محکمہ صحت کو درخواستیں دے چکے ہیں، مگر کوئی سننے والا نہیں۔ نہ صفائی کا عملہ نظر آتا ہے، نہ کوئی سپرنٹنڈنٹ آ کر صورتحال دیکھتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ اب تو ہم تنگ آ چکے ہیں، کوئی تو سنے ہماری فریاد یہاں سب سے بڑا دکھ یہ ہے کہ سرگودھا کا واسا واٹر اینڈ سینی ٹیشن اور میونسپل کارپوریشن کے افسران صرف اپنی تنخواہوں اور عہدوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ماہانہ عوام کے ٹیکسوں سے کروڑوں روپے ان محکموں کے پاس آتے ہیں، لیکن بدلے میں عوام کو صرف بوسیدہ نالیاں اور بھری گندگی ملتی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان محکموں میں کام صرف تعلقات اور رشوت سے ہوتا ہے، ورنہ کوئی ہماری گلی کی طرف دیکھنے کو بھی تیار نہیں۔ یہ صورتِ حال دن بہ دن سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ اگر فوری طور پر صفائی کا باقاعدہ نظام شروع نہ کیا گیا اور گٹروں کی نکاسی کا مناسب انتظام نہ ہوا، تو بیماریاں پھیلنا شروع ہو جائیں گی۔ ڈینگی پیچش اور جلد کے امراض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ ظفر کالونی کے رہائشی بس اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے اور ان کے بنیادی حقوق صاف ستھرا ماحول پینے کا صاف پانی اور صحت مند زندگی — کو یقینی بنایا جائے۔ یہ وہی عوام ہیں جن کے ٹیکسوں سے شہر چلتا ہے مگر جب ان کی اپنی گلی میں گندگی پھیلی ہو تو وہ مجبور و لاچار نظر آتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ واسا اور کارپوریشن کے افسران اپنی کرسیاں چھوڑ کر زمین پر اتریں خود معائنہ کریں اور عوام کو یہ یقین دلائیں کہ ان کا دکھ ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
