
افغانستان میں طالبان حکومت کے وزیر تجارت پاکستان پر معاشی انحصار کم کرنے اور متبادل تجارتی راستوں کی سہولت کے لیے سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔
نورالدین عزیزی کے پانچ روزہ دورے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات اور درآمدات و برآمدات کو وسعت دینے پر توجہ دی جائے گی کیونکہ پاکستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے تقریباً چھ ہفتوں سے بند ہیں۔ تقریباً دو ماہ میں طالبان حکومت کے یہ دوسرے سینیئر عہدیدار ہیں جو انڈیا کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی کابل میں افغان، ایرانی اور دیگر علاقائی ممالک کی مصنوعات کی نمائش کی گئی، جس نے طالبان حکام کے مطابق افغان تاجروں کو پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں کاروبار کے مواقع فراہم کیے تھے۔
طالبان کے حکومتی عہدیداروں کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر ’پاکستان کا متبادل‘ تلاش کرنا ہی واحد آپشن ہے
