پوٹن کا دورہ بھارت دفاعی تعاون کی نئی جہتیں اور چیلنجز


پوٹن کا دورہ بھارت دفاعی تعاون کی نئی جہتیں اور چیلنجز
روس کے صدر ولادی میر پوٹن کا اگلے ماہ 4 سے 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان قدامت پسند سمجھی جانے والی اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک اہم کڑی ہے۔ اگرچہ بھارتی سیکرٹری دفاع راجیش کمار نے اس دورے سے دفاعی شعبے میں کوئی بڑا اعلان ہونے کی توقع سے انکار کیا ہے، تاہم یہ دورہ ایک نازک دور میں ہند روس تعلقات کی پیچیدگیوں، باہمی مفادات اور مستقبل کے امکانات کو سمجھنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔تعلقات کی مضبوط بنیاد اور موجودہ تناظر
ہند-روس تعلقات کی بنیاد سرد جنگ کے دور میں رکھی گئی تھی اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ استحکام اور اعتماد کی ایک مثال بنی رہی ہے۔ دفاعی شعبہ ہمیشہ سے اس شراکت داری کا ستون رہا ہے، جہاں بھارت کو روس سے اپنی دفاعی ضروریات کا بڑا حصہ حاصل رہا ہے۔ تاہم، گزشتہ کچھ برسوں میں بھارت کی خارجہ پالیسی میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ بھارت اب امریکہ اور اس کے اتحادیوں، خاص طور پر کواڈ (QUAD) گروپنگ، کے ساتھ قریب ہوا ہے۔ اس کے باوجود، روس کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا بھارت کے لیے اسٹریٹجک لچک اور ملٹی الائنمنٹ پالیسی کا ایک اہم جزو ہے۔ پوٹن کا یہ دورہ اس بات کی تصدیق ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو نئے عالمی حالات میں بھی برقرار رکھنے کے خواہش مند ہیں دفاعی تعاون توقعات اور حقائق
سیکرٹری دفاع راجیش کمار کے بیان کے مطابق، اس دورے کے مرکز میں موجودہ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانا اور سپلائی میں ہونے والی تاخیرات جیسے عملی مسائل کو حل کرنا ہوگا۔
1.ایس-400 کا معاملہ یہ معاملہ اس دورے کی سب سے اہم دفاعی ایجنڈا پوائنٹ ہے۔ بھارت روس کے ساتھ ایس-400 ٹرائیڈ ڈیفنس سسٹم کے معاہدے پر عملدرآمد سے مایوس ہے۔ ترسیل میں تاخیر نے بھارتی فضائیہ کی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے۔ بھارتی حکومت کا اس دورے میں روسی قیادت سے اس تاخیر پر وضاحت مانگنا ایک فطری اقدام ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تاخیر کے باوجود، اضافی یونٹس کے آرڈر پر بات چیت کا امکان ظاہر کرتی ہے کہ بھارت اس نظام کی اہمیت سے انکار نہیں کر رہا اور مستقبل میں اسے اپنی ڈیفنس کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
2.زیر التواء سپلائیز ایس-400 کے علاوہ، بھارت اور روس کے درمیان اسلحہ، گولہ بارود، اور اسپیئر پارٹس کی فراہمی کے متعدد معاہدے موجود ہیں۔ روس-یوکرین جنگ کے باعث روسی دفاعی صنعت پر دباؤ بڑھا ہے، جس کا اثر اس کی برآمدات پر پڑ رہا ہے۔ بھارت کا “زیر التواء سپلائی کے لیے ٹائم لائنز حاصل کرنے پر توجہ” درحقیقت اپنی دفاعی تیاریوں کو یقینی بنانے کی کوشش ہے۔ 3 مستقبل کے تعاون کے راستے اگرچہ بڑا اعلان متوقع نہیں، لیکن دونوں ممالک مشترکہ تحقیق و ترقی، تکنیکی منتقلی، اور ہندوستان میں دفاعی سازوسامان کی مینوفیکچرنگ جیسے شعبوں میں تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف بھارت کی ‘میڈ ان انڈیا’ اور ‘آتم نربھر بھارت’ کی مہم کو تقویت ملے گی بلکہ روس کے لیے بھارت ایک مستقل شراکت دار کے طور پر ابھرے گا۔
دورے کی وسیع تر سیاسی اور اسٹریٹجک اہمیت
پوٹن کا دورہ محض دفاعی خرید و فروخت سے بالاتر ہے۔ اس کی کئی گہری معنویتیں ہیں جیو پولیٹیکل سگنل یہ دورہ امریکہ اور چین دونوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ہندوستان اپنی آزاد خارجہ پالیسی برقرار رکھے گا۔ واشنگٹن کے لیے، یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بھارت مکمل طور پر کواڈ کے دائرے میں نہیں آیا ہے۔ بیجنگ کے لیے، یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ روس کا بھارت کے ساتھ ایک الگ اور تاریخی تعلق ہے، جسے چین کے ساتھ روس کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے باوجود نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
* اقتصادی شراکت داری توانائی کے شعبے میں تعاون ایک اہم ایجنڈا ہوگا۔ بھارت نے جنگ کے دوران بھی روسی تیل کی کثیر مقدار میں خریداری جاری رکھی، جو روس کی معیشت کے لیے اہم ثابت ہوئی۔ دونوں ممالک ایٹمی توانائی، ہائیڈرو کاربن، اور تجارت کے دوسرے شعبوں میں شراکت کو بڑھانے پر غور کریں گے۔
* **علاقائی امور پر تبادلہ خیال:** افغانستان میں حالیہ تبدیلیوں، وسطی ایشیا کی صورتحال، اور بحر ہند بحرالکاہل (Indo-Pacific) کے خطے میں استحکام جیسے علاقائی اور عالمی مسائل پر بات چیت ہوگی۔ دونوں ممالک دہشت گردی جیسے مشترکہ خدشات کا سامنا کر رہے ہیں۔

**نتیجہ**

صدر پوٹن کا دورہ بھارت ایک “بزنس از یوژل” دورہ ہے، جس کا مقصد ایک پرانے اتحاد کو نئی صدی کے چیلنجز کے مطابق ڈھالنا ہے۔ یہ دورہ شاہانہ اعلانات کے بجائے عملی مسائل کے حل، اعتماد کی بحالی، اور مستقبل کے روڈ میپ کی تشکیل پر مرکوز ہوگا۔ اگرچہ دفاعی شعبے میں فوری طور پر کوئی بڑا بریک تھرو متوقع نہیں ہے، لیکن یہ دورہ اس بات کی بنیاد رکھے گا کہ آیا ہند-روس شراکت داری موجودہ جیو پولیٹیکل کشمکش میں اپنی اہمیت برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی بات چیت کا نتیجہ نہ صرف ان کے باہمی تعلقات، بلکہ خطے اور عالمی سیاسی دھاروں پر بھی گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *