رنجیت سنگھ کی پشاور فتح درانی سلطنت کے زوال اور ہندوستان پر حملوں کے خاتمے کی داستان


رنجیت سنگھ کی پشاور فتح درانی سلطنت کے زوال اور ہندوستان پر حملوں کے خاتمے کی داستان برصغیر کی تاریخ میں چند ایسے فیصلہ کن موڑ آتے ہیں جو پوری خطے کی سیاسی اور تہذیبی سمت بدل دیتے ہیں۔ انہی میں سے ایک ہے مہاراجا رنجیت سنگھ کی 1818 میں پشاور پر فتح۔ یہ محض ایک شہر کی تسخیر نہیں تھی بلکہ اس واقعہ نے افغان درانی حکمرانی کی پشت پر ایسی ضرب لگائی جس سے وہ کبھی سنبھل نہ سکے۔ اس فتح نے برصغیر پر افغانی حملوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے روک دیا اور پنجاب کو ایک منظم، طاقتور اور خودمختار ریاست کے طور پر ابھارا۔پشاور صدیوں تک برصغیر اور وسط ایشیا کے درمیان ایک اہم تجارتی و فوجی گزرگاہ رہا ہے۔ اس شہر پر قبضے کا مطلب تھا افغانستان کے دل تک رسائی اور ہندوستان کے دروازوں کی حفاظت۔ رنجیت سنگھ کی اس فتح نے اٹھارویں صدی میں افغان طاقت کے عروج کو پلٹ کر رکھ دیا اور درانی خاندان کی شاہی خوابوں کو چکناچور کر دیا۔
درانی سلطنت کا عروج و زوال افغانستان میں درانی سلطنت کی بنیاد احمد شاہ ابدالی (دورانی) نے 1747 میں رکھی تھی۔ اس نے نہ صرف افغان قبائل کو متحد کیا بلکہ ہندوستان پر کئی کامیاب حملے کیے۔ 1748 سے 1767 کے دوران اس نے نو مرتبہ ہندوستان پر چڑھائی کی۔ 1761 کی پانی پت کی تیسری جنگ میں مرہٹوں کو شکست دے کر اس نے شمالی ہندوستان پر اپنی بالادستی قائم کر دی ۔
احمد شاہ کے بعد اس کا بیٹا تیمور شاہ تخت نشین ہوا مگر اس کے بعد درانی خاندان میں اندرونی انتشار شروع ہو گیا۔ تیمور شاہ کے 23 بیٹے تھے جن میں تخت کے لیے باہمی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ زمان شاہ، محمود شاہ، شجاع الملک اور کامران شاہ کے درمیان یہ کشمکش 1830 کی دہائی تک جاری رہی ۔ رنجیت سنگھ کا عروج رنجیت سنگھ 1780 میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ بارہ سال کی عمر میں والد کی وفات کے بعد وہ ایک چھوٹی سی سکھ مِسل کے سردار بنے ۔ انہوں نے نہایت ذہانت اور جرات سے کام لیتے ہوئے 1799 میں لاہور پر قبضہ کیا اور اسے اپنا دارالخلافہ بنایا ۔ 1801 میں ویساکھی کے دن انہوں نے مہاراجا کا خطاب اختیار کیا۔رنجیت سنگھ کی عظمت کی ایک بڑی وجہ ان کی فوجی اصلاحات تھیں۔ انہوں نے فرانسیسی اور دیگر یورپی افسران جیسے جنرل جین فرانکوئس الارڈ کو اپنی فوج میں شامل کیا اور جدید طرز پر فوج کو منظم کیا ۔ اس جدید سکھ خالصہ فوج کا مقابلہ کرنا درانی افواج کے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ان کی حکومت کا ایک اہم پہلو مذہبی رواداری تھا۔ انہوں ہندوؤں اور سکھوں سے جزئیہ ٹیکس ختم کر دیا اور اپنی سلطنت میں تمام مذاہب کے لوگوں کو مساوی حقوق دیئے ۔1818 تک پنجاب، کشمیر اور ملتان رنجیت سنگھ کی سلطنت کا حصہ بن چکے تھے۔ پشاور ان کی نظر میں تھا کیونکہ یہ شہر درانی طاقت کا مرکز اور ہندوستان پر حملوں کا گیٹ وے تھا۔
اس وقت درانی سلطنت اندرونی کشمکش کا شکار تھی۔ وزیر فتح خان برکزئی کو محمود شاہ کے بیٹے کامران نے اندھا کر کے قتل کروا دیا تھا۔ فتح خان کے 21 بیٹے تھے جن میں دوست محمد خان بھی شامل تھا۔ ان برکزئی بھائیوں نے پورے افغانستان میں بغاوت پھیلا دی اور درانی خاندان کا صوبہ ہرات کے علاوہ باقی تمام علاقوں سے ہاتھ نکل گیا ۔ اس خانہ جنگی کا فائدہ رنجیت سنگھ نے اٹھایا۔
1818 میں رنجیت سنگھ کی افواج نے پشاور پر قبضہ کر لیا ۔ درانی گورنر یار محمد خان نے باجگزار قبول کیا اور خراج دینے پر آمادہ ہو گیا ۔ اس فتح کے بعد رنجیت سنگھ نے اٹک کے قریب دریائے سندھ پر خیرآباد قلعہ تعمیر کروایا اور پشاور وادی میں اپنی چھوٹی فوجی چوکیاں قائم کر دیں۔1819 میں رنجیت سنگھ نے کشمیر بھی فتح کر لیا ۔ اس طرح پنجاب، کشمیر اور پشاور ان کی سلطنت میں شامل ہو گئے اور درانیوں کا ہندوستان پر سے اثر و رسوخ ختم ہو گیا۔ 1822 میں محمد عظیم خان برکزئی نے پشاور پر دوبارہ قبضہ کر لیا۔ اس نے سکھوں کے خلاف جہاد کا نعرہ بلند کیا اور قبائلی لشکر جمع کیا ۔ 1823 کے اوائل میں اس کے سپاہیوں نے اٹک کا پل تباہ کر دیا جس سے دریائے سندھ کے مغرب میں موجود سکھ دستے پھنس گئے۔رنجیت سنگھ نے فوری موقع کی نزاکت کو بھانپ لیا۔ انہوں نے اپنی فوج کو دریائے سندھ کے مشرقی کنارے پہنچایا اور پانی پار کرنے کی تیاری کی۔ اس وقت پشتون قبائل کا ایک بڑا لشکر پير صاحب کے جھنڈے تلے پہاڑی پر جمع تھا ۔14 مارچ 1823 کو نوشہرہ کے مقام پر فیصلہ کن جنگ ہوئی۔ رنجیت سنگھ کی فوج نے شدید مزاحمت کے باوجود دریا پار کیا اور پہاڑی پر حملہ کر دیا۔ چوتھے حملے میں خود مہاراجا نے اپنے دستے کی قیادت کی اور پہاڑی پر قبضہ کر لیا ۔
اس جنگ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ محمد عظیم خان اپنی توپ خانے سمیت دریائے کابل پار نہ کر سکا اور وہ قبائلی لشکر کو اکیلے چھوڑ کر پسپا ہو گیا۔ اس کے پیچھے ہٹنے کی وجوہات پر مورخین متفق نہیں لیکن اس کے نتیجے میں قبائلی لشکر کی ہمت ٹوٹ گئی اور وہ بکھر گیا ۔
یہ شکست عظیم خان کے لیے بہت زیادہ تھی۔ وہ اس صدمے سے کبھی نہ سنبھلا اور جنگ کے کچھ ہی عرصہ بعد مر گیا ۔نوشہرہ کی فتح کے بعد رنجیت سنگھ نے پشاور پر دوبارہ قبضہ کیا اور اس بار انہوں نے شہر کو مسمار کر دیا۔ درانی طاقت کی باقیات کو ختم کر کے انہوں نے خیبر پاس پر قبضہ کر لیا تاکہ کوئی افغان کمک دوبارہ خطرہ نہ بن سکے ۔پشاور کی فتح کے بعد رنجیت سنگھ کی سلطنت کی حدود مغرب میں خیبر پاس سے شمال میں کشمیر اور جنوب میں ملتان تک پھیل گئیں ۔ ان کی وفات 1839 تک یہ سلطنت برصغیر کی طاقتور ترین ریاست تھی ۔پشاور کی فتح نے درانی سلطنت کی کمر توڑ دی۔ اس کے بعد درانی حکمران صرف ہرات کے محدود علاقے تک محدود رہ گئے ۔ اندورنی انتشار اور قبائلی سرداروں کی بغاوتوں نے ان کا باقی ماندہ اثر بھی ختم کر دیا ۔کامران شاخ نے 1829 میں ہرات پر حکومت کی مگر وہ عیش پرست اور نااہل ثابت ہوا ۔ 1837-39 میں ایران کے قاجار بادشاہ نے ہرات کا محاصرہ کیا تو برطانوی مداخلت کے باوجود درانیوں کی حیثیت صرف تماشائی کی تھی۔ 1842 میں کامران کو اس کے اپنے وزیر یار محمد نے قتل کروا دیا اور درانی حکمرانی کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ۔پشاور پر سکھ قبضے کا سب سے اہم نتیجہ یہ تھا کہ ہندوستان پر افغان حملوں کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ احمد شاہ ابدالی کے زمانے سے درانی حکمران ہندوستان کو لوٹنے اور خراج وصول کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔ رنجیت سنگھ نے اس خواب کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔
اس کے بعد افغانستان کی توجہ اپنی اندرونی مشکلات اور مغرب میں ایرانی خطرے کی طرف مرکوز ہو گئی۔ دوست محمد خان برکزئی جب 1834 میں کابل پر قابض ہوئے تو انہوں نے پشاور واپس لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ 1837 میں ان کے بیٹے محمد اکبر خان جمرود تک آئے مگر سکھوں سے شکست کھائی اور پسپا ہو گئے۔ رنجیت سنگھ کی پشاور فتح محض ایک فوجی کامیابی نہیں تھی بلکہ اس نے برصغیر کی تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ اس فتح نے افغان درانی سلطنت کی پشت پر آخری ضرب لگائی، ہندوستان پر صدیوں پر محیط حملوں کا سلسلہ ختم کیا، اور پنجاب کو ایک خودمختار، منظم اور طاقتور ریاست کے طور پر قائم کیا۔
رنجیت سنگھ کی بصیرت، فوجی اصلاحات اور سیاسی تدبر نے پنجاب کو ایسی مضبوط حکومت دی کہ ان کی وفات کے دس سال بعد تک کوئی بیرونی طاقت اس پر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکی۔ یہ ان کا ہی کارنامہ تھا کہ سکھ سلطنت برصغیر کی واحد ریاست تھی جسے انگریزوں نے اپنے زیر تسلط نہیں کیا تھا ۔ آج اگر پنجاب ایک مضبوط تشخص اور تہذیبی ورثہ رکھتا ہے تو اس کا سہرا اس عظیم مہاراجا کے سر ہے جس نے نہ صرف پنجاب کو متحد کیا بلکہ اسے بیرونی حملوں سے محفوظ رکھ کر ایک سنہرا دور عطا کیا۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *