
علی لاریجانی کا نام آتے ہی ایرانی سیاست میں ایک ایسی شخصیت کا نقشہ ابھرتا ہے جو طاقت، دانش، اور diplomacy کے سنگم پر کھڑی نظر آتی ہے۔ وہ محض ایک سیاست دان نہیں، بلکہ ایران کے پیچیدہ سیاسی ڈھانچے کا وہ فلسفیانہ ذہن ہیں جو کانٹ اور خمینی کے افکار کو یکجا کرتا ہے ۔علی لاریجانی 1958 میں عراق کے شہر نجف میں پیدا ہوئے، لیکن ان کی جڑیں ایران کے علمی خاندانوں سے جڑی ہوئی تھیں۔ ان کے والد ایک ممتاز عالم دین تھے، اور یہ خاندان ایران میں “خاندان کینیڈی” کی طرح جانا جاتا ہے – جس کے متعدد افراد برسہا برس سے ملک کے مختلف اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں ۔ مگر لاریجانی کا راستہ قدرے مختلف رہا۔
انہوں نے شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں تعلیم حاصل کی، اور پھر تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، جس کا موضوع ایمانوئل کانٹ کی فلسفہ تھا ۔ یہ فلسفیانہ پس منظر ان کی شخصیت کا اہم جزو ہے۔ وہ مغربی فلسفے کو اسلامی تناظر میں ڈھالنے کی کوشش کرتے تھے، اور یہی کیفیت ان کے سیاسی کردار میں بھی جھلکتی ہے۔
لاریجانی کا عملی کیریئر انقلاب کے بعد اسلامی انقلابی گارڈز میں خدمات سے شروع ہوا، لیکن جلد ہی وہ انتظامی اور سفارتی میدانوں میں ابھرے۔ ان کی زندگی کا سفر کئی اہم موڑ 1980 ثقافت کے وزیر اور صدا و سیمای کے سربراہ میڈیا اور ثقافت کے ذریعے طاقت کا شعور |
| 2005-2007 | قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور ایٹمی مذاکرات کار | مغرب کے ساتھ پہلی بار پیچیدہ ایٹمی مذاکرات |
| 2008-2020 | پارلیمنٹ (مجلس) کے اسپیکر | انتہائی طویل عرصے تک اس عہدے پر فائز رہنا |
| 2025-2026 | دوبارہ قومی سلامتی کونسل کے سربراہ جنگ اور سفارت کاری کا امتزاج ایٹمی مذاکرات کے دوران ان کا مشہور جملہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے کہ مغربی طاقتوں کی پیشکش “ایک کینڈی کے عوض موتی” دینے کے مترادف ہے ۔ لاریجانی کی شخصیت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مختلف دھڑوں کو جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک طرف وہ پاسداران انقلاب سے قریب ہیں اور انہیں “طاقتور حلقوں” کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، تو دوسری طرف انہیں عملیت پسند (pragmatist) بھی کہا جاتا ہے ۔ کے مطابق، لاریجانی ایران کے نظام میں “سخت گیر فوجی عناصر اور نسبتاً معتدل سیاسی دھڑوں کے درمیان پُل” کا کام کرتے تھے ۔ ان کی یہی خوبی انہیں منفرد بناتی ہے۔ یہ عملیت پسندی ان کے ایٹمی مؤقف میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مسئلہ قابل حل ہے۔ اگر امریکیوں کا خدشہ یہ ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی طرف نہ بڑھے، تو اس پر بات ہو سکتی ہے” ۔ تاہم وہ یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ “ایٹمی ٹیکنالوجی کو تباہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ علم کو تباہ نہیں کیا جا سکتا حالیہ مہینوں میں جب ایران پر مشکل وقت آیا اور اعلیٰ قیادت پر حملے ہوئے، تو لاریجانی ایک بار پھر منظرعام پر آگئے۔ وہ وہ چہرہ تھے جو عوام کے سامنے آتا، تقاریر کرتا، اور قومی یکجہتی کا پیغام دیتا جنوری میں ان پر پابندیاں عائد کیں، اور ان پر الزام لگایا کہ انہوں نے “ایرانی عوام کے جائز مطالبات کو کچلنے میں کردار ادا کیا” ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں ہزاروں مظاہرین ہلاک ہوئے ۔ یہ تضاد لاریجانی کی شخصیت کا حصہ ہے – ایک طرف وہ عوامی رہنما اور سفارت کار، تو دوسری طرف سخت گیر منتظم۔ علی لاریجانی ایران کی سیاست کا وہ چہرہ ہیں جو مختلف جہتوں کو یکجا کرتا ہے۔ وہ فلسفی ہیں مگر عملی سیاست دان، سخت گیر ہیں مگر سفارت کاری کے دلدادہ، اور طاقتور حلقوں کے قریب ہیں مگر عملیت پسندی کے علمبردار۔اگر ان کی موت کی خبریں سچ ہیں، تو ایران نے نہ صرف ایک تجربہ کار رہنما کھویا ہے، بلکہ ایک ایسا شخصیت کھویا ہے جو ملک کے مختلف دھڑوں کو متوازن رکھنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے، “ان کی موت کا مطلب نظام کا مزید فوجی ہاتھوں میں جانا ہو سکتا ہے ایک زمانے میں انہوں نے کہا تھا کہ “علم کو تباہ نہیں کیا جا سکتا”۔ شاید یہی جملہ ان کی سیاسی میراث کے لیے بھی درست ہے – ان کا اثر و رسوخ، ان کے خیالات، اور ان کی حکمت عملی آنے والے برسوں تک ایران کی سیاست میں محسوس کی جاتی رہے گی۔
