
پاکستان کی مشکلات جب ایران کی جنگ نے گھر کی چوکھٹ تک لا کھڑی کیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے مشرق وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی آگ اب براہ راست پاکستانی عوام کے گھروں تک آن لگی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اب صرف سرخیوں کی خبر نہیں رہی، بلکہ اس نے پاکستان کے تعلیمی نظام، سرکاری دفاتر، اور عام آدمی کی روٹی کپڑے کے معاملات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ کوئی عام صورتِ حال نہیں ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب حکومت نے مشکل فیصلے لیے ہیں، اور عوام بھی ان کے اثرات اپنی زندگیوں میں محسوس کر رہے ہیں۔
طلبہ کی واپسی اور بند دروازے اس وقت پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح اپنے شہریوں کی جان کا تحفظ ہے۔ جو طلبہ ایران کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم تھے، ان کی واپسی کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ وفاقی پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چودھری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اب تک دو ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ کو ایران سے نکال لیا گیا ہے ۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ تہران میں واقع پاکستانی سفارت خانے کو عارضی طور پر 150 کلومیٹر دور منتقل کرنا پڑا کیونکہ پرانی عمارت حساس تنصیبات کے قریب تھی ۔ سفارت کار دن رات کام کر رہے ہیں، روزانہ پانچ سو سے زائد فون کالز موصول ہو رہی ہیں، اور طلبہ کو وٹس ایپ گروپس کے ذریعے رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے۔ تفتان، ریمدان اور آذربائیجان کی سرحدوں کے ذریعے ان طلبہ کو وطن واپس لایا جا رہا ہے جب اسکول بند ہوں تو اساتذہ کہاں جائیں؟یہ ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ حکومت نے پورے ملک میں تعلیمی اداروں کو دو ہفتوں کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے تقریباً چار کروڑ طلبہ متاثر ہوں گے ۔ پنجاب میں تو 31 مارچ تک تعلیمی ادارے بند رہیں گے ، سندھ میں 16 سے 31 مارچ تک تعطیلات ہیں ، اور بلوچستان میں 23 مارچ تک بندش کا اعلان ہے ۔ لیکن اصل کہانی اسکول کے اندر کی ہے۔ لاہور کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی کے پرائیویٹ اسکولوں میں ایک عجیب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ کلاس رومز خالی ہیں، بینچوں پر گرد جم رہی ہے، لیکن اسٹاف رومز میں اساتذہ موجود ہیں ۔ وہ اپنے کمپیوٹر اور لیپ ٹاپس کے سامنے بیٹھے آن لائن کلاسز لے رہے ہیں۔
ایک استانی نے بتایا، طلبہ گھر سے کلاس اٹینڈ کر رہے ہیں، لیکن ہمیں اسکول آنا پڑتا ہے۔ مینجمنٹ چاہتی ہے کہ ہم یہاں سے پڑھائیں تاکہ مانیٹرنگ ہو سکے۔” ۔ اور جب وہ خود اسکول جا رہی ہیں، ان کے اپنے بچے گھر میں تنہا ہیں، آن لائن کلاسز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ان کا سفری خرچ بھی بڑھ گیا ہے، لیکن اسکول انتظامیہ کوئی مدد فراہم نہیں کر رہی ۔ دفتر کہاں جائے؟ دفتر گھر پر وفاقی حکومت نے ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ سرکاری دفاتر ہفتے میں چار دن کھلیں گے، اور پچاس فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا ۔ بینکوں اور ہسپتالوں جیسی ضروری خدمات اس سے مستثنیٰ ہیں۔ لیکن اس کے پیچھے وجہ صرف عوامی سہولت نہیں ہے۔ اصل مسئلہ تیل ہے۔ایران پر حملوں کے بعد خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی خطرے میں ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی عالمی تیل اور گیس کی بیس فیصد سپلائی متاثر ہوئی ہے ۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں ، اور پاکستان جیسا درآمدی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا ہے، جو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی فی کس اضافہ ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خود اعتراف کیا کہ “عالمی تیل کی منڈی پاکستان کے ہاتھ میں نہیں ہے کفایت شعاری کے سخت اقدامات
جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی مشکلات سے نمٹنے کے لیے حکومت نے کئی سخت اقدامات اٹھائے ہیں- سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے الاؤنس میں پچاس فیصد کمی
– وفاقی وزراء اور مشیران دو ماہ کے لیے اپنی تنخواہیں اور الاؤنسز نہیں لیں گے
– اراکین پارلیمان کی تنخواہوں میں 25 فیصد رضاکارانہ کٹوتی
– نئی گاڑیوں کی خریداری پر جون 2026 تک پابندی
– سرکاری خرچے پر افطار ڈنر اور تقریبات پر پابندی
صوبائی سطح پر بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے اعلان کیا کہ وزراء کو مفت پیٹرول نہیں ملے گا، اور سرکاری گاڑیوں کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کے الاؤنس میں پچاس فیصد کمی کر دی گئی ہے ۔ خیبر پختونخوا میں 25 فیصد کمی کی گئی ہے ۔ سندھ میں سرکاری ملازمین جمعہ کو گھر سے کام کریں گے، اور سرکاری خرچے پر ریفریشمنٹ پر دو ماہ کے لیے پابندی لگا دی گئی ہے ۔
ذخائر اور نگرانی
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان کے پاس پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر پچیس دن کے لیے کافی ہیں، جبکہ خام تیل صرف دس دن کے لیے موجود ہے ۔ پنجاب حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کا نظام متعارف کرایا ہے ۔ ضلع نگران کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، اور پٹرول پمپس پر روزانہ چیکنگ کی جائے گی۔ پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ایک موبائل ایپلیکیشن بھی تیار کر رہا ہے جس کے ذریعے پٹرول پمپس اور آئل ڈپو کی آن لائن نگرانی کی جا سکے گی ۔ سفارتی محاذ پاکستان نے نہ صرف داخلی سطح پر اقدامات کیے ہیں بلکہ سفارتی محاذ پر بھرپور سرگرمی دکھائی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے انڈونیشیا کے صدر سے ٹیلی فونک بات چیت کی ۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیرخارجہ سے رابطہ کیا اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی حمایت کا یقین دلایا ۔ پاکستان نے ایران پر حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں دونوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کریں اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کری عوامی مشکلات ان تمام اقدامات کے باوجود، عام آدمی کی مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ جاتے ہیں، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، اور غریب طبقے پر دوہری مشکل پڑتی ہے ۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 960 ملین روپے کی بچت ہو گی ، لیکن عام آدمی کے لیے یہ بچتیں اس وقت تک اہم نہیں جب تک اس کی اپنی جیب پر اثر نہ پڑے یہ وہ وقت ہے جب پورا ملک ایک نئی صورتحال سے دوچار ہے۔ اسکول بند ہیں مگر اساتذہ ڈیوٹی پر ہیں۔ دفاتر چار دن کھلتے ہیں مگر کام پانچ دن کا کرنا ہے۔ پیٹرول مہنگا ہے مگر سفر لازمی ہے۔ جنگ ایران میں لڑی جا رہی ہے، مگر اس کے معاشی اثرات پاکستان کی گلی گلی میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔یہ مشکل وقت ہے، اور مشکل وقت میں قوموں کی اصل آزمائش ہوتی ہے کہ وہ کس طرح ایک دوسرے کا ساتھ دیتی ہیں، کس طرح وسائل کو منصفانہ طور پر تقسیم کرتی ہیں، اور کس طرح اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرتی ہیں۔ یہ تحریر 11 مارچ 2026 تک کی معلومات پر مبنی ہے۔ صورتحال متحرک ہے اور نئی پیش رفت کے ساتھ اس میں تبدیلی ممکن ہے۔
