آبنائے ہرمز میں ‘پوشیدہ جنگ۔جب جہاز اپنا راستہ بھول جائیں تصور کریں کہ آپ ایک بڑے بحری جہاز کے کپتان ہیں


آبنائے ہرمز میں ‘پوشیدہ جنگ۔جب جہاز اپنا راستہ بھول جائیں تصور کریں کہ آپ ایک بڑے بحری جہاز کے کپتان ہیں اور آپ دنیا کی مصروف ترین آبی گزرگاہ سے گزر رہے ہیں۔ اچانک آپ کا جی پی ایس بیکار ہو جاتا ہے، اور اسکرین پر آپ کا جہاز صحرا کے بیچوں بیچ یا کسی ہوائی اڈے پر نظر آنے لگتا ہے۔ یہ کوئی سائنس فکشن فلم کا منظر نہیں، بلکہ آبنائے ہرمز میں جاری ایک حقیقی ‘الیکٹرانک جنگ’ ہے، جو علاقائی کشیدگی کی ایک نئی اور انتہائی خطرناک شکل بن چکی ہے۔
یہ جنگ روایتی میزائلوں اور بم سے نہیں، بلکہ برقی مقناطیسی لہروں سے لڑی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، اس خطے میں جی پی ایس سگنلز کو جام کرنے اور ان میں ردوبدل (اسپوفنگ) کی کارروائیاں عروج پر ہیں، جس سے سینکڑوں تجارتی جہازوں کی راہنمائی کرنے والا نظام درہم برہم ہو گیا ہے ۔
اس الجھن کا اندازہ آپ شپنگ ٹریکنگ ویب سائٹس پر لگنے والی عجیب و غریب تصویروں سے لگا سکتے ہیں۔ ہزاروں کلومیٹر دور بیٹھے تجزیہ کار دیکھ رہے ہیں کہ بحری جہازوں کے بیڑے سمندر کی بجائے خشکی پر، ایک ایرانی نیوکلیئر پاور پلانٹ یا فوجی اڈوں کے گرد گول دائرے بنا رہے ہیں ۔ کہیں یہ جہاز الٹا زیڈ (Z) شکل میں قطار در قطار کھڑے نظر آتے ہیں تو کہیں ایک دوسرے کے اوپر ۔یہ کوئی تماشا نہیں بلکہ ایک خطرناک حقیقت ہے۔ دراصل، بحری جہاز اپنی صحیح پوزیشن چھپانے یا غلط پوزیشن دکھانے پر مجبور ہیں۔ گذشتہ روز ہی اس علاقے میں 600 سے زائد بحری جہازوں کے نظامِ راہنمائی (GNSS) میں اس قسم کی خرابیاں ریکارڈ کی گئیں ۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 7 مارچ کو 1,650 سے زائد جہاز اس مداخلت کی زد میں آئے ۔یہ مداخلت محض تکلیف نہیں بلکہ جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز بالکل تنگ ہے، اور یہاں سے گزرنے والے تیل کے بڑے بڑے ٹینکرز کو ایک دوسرے سے بچنے کے لیے درست جی پی ایس ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب یہی ڈیٹا غلط ہو، تو تصادم کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔
برطانوی ماہر الان ووڈورڈ نے اس خطرے کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے: “مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آپ نہیں جانتے کہ آپ خود کہاں جا رہے ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کو اندازہ نہیں کہ باقی سب کہاں جا رہے ہیں۔اس صورت حال نے جہازوں کے عملے کو صدیوں پرانے طریقوں پر انحصار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایک چینی کپتان نے بتایا کہ جب ان کا جی پی ایس، چین کا بائیڈو اور روس کا گلوناس تینوں نظام بیکار ہو گئے، تو انہیں ریڈار اور آنکھوں سے دیکھ کر جہاز چلانا پڑا ۔ دوسری طرف، کچھ بحری جہازوں نے اپنی منزل کے خانے میں قومیت لکھنا شروع کر دی ہے، جیسے ‘چینی عملہ’ یا ‘عراقی مالک’، تاکہ کسی غلط فہمی میں نشانہ نہ بن جائیں ۔یہ الیکٹرانک مداخلت محض اتفاق نہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ علاقے میں فعال فوجی قوتوں کا ایک جان بوجھ کر کیا گیا حربہ ہے۔ ایران پر حملوں کے بعد امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے جی پی ایس جام کیا جا رہا ہے ۔ دوسری طرف، ایران پر بھی الزام ہے کہ وہ خلیج میں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں خلل ڈالنے کے لیے ایسا کر رہا ہے ۔ یہ ایک ‘الیکٹرانک شیلڈ’ کی طرح کام کرتا ہے، لیکن اس کی زد میں عام شہری آ بھی جاتے ہیں ۔ رائل انسٹی ٹیوٹ آف نیویگیشن کے ڈائریکٹر رمسے فیراگھر نے اسے جدید دور کی جنگ کی ناگزیر لیکن انتہائی خطرناک ضرورت قرار دیا ہے ۔
گہرے خدشات
ماہرین کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو امدادی کارروائیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اگر کوئی ملاح سمندر میں گر جائے تو اس کی جیکٹ میں لگا جی پی ایس سگنل ہی اسے بچانے کی امید ہوتی ہے، لیکن اسپوفنگ والے علاقے میں یہ سگنل بھی جھوٹا ثابت ہو سکتا ہے، جس سے قیمتی وقت ضائع ہو سکتا ہے ۔یہ پوشیدہ جنگ ہمیں بتا رہی ہے کہ ٹیکنالوجی پر ہمارا انحصار کس قدر کمزور ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ ایک ماہر نے کہا، “ہم اس دور کو جلد ہی ماضی کی طرح یاد کریں گے اور سوچیں گے کہ ہم واقعی پاگل تھے کہ اس طرح کے کمزور نظام پر بھروسہ کر لیا۔

About The Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *