
واشنگٹن ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر پیدا ہونے والے شدید اختلافات کے باعث امریکی انسداد دہشت گردی کے اعلیٰ عہدیدار نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ تہران کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں۔
ذرائع کے مطابق، قومی سلامتی کونسل میں انسداد دہشت گردی کے امور کے نگران اعلیٰ اہلکار نے استعفے کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے خلاف جارحانہ فوجی کارروائی نہ صرف غیر دانشمندانہ ہوگی بلکہ اس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سفارتی راستے اور مذاکرات ہی مسئلے کا بہتر حل ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی انتظامیہ میں ایران کے خلاف سخت گیر مؤقف اختیار کرنے والے اور سفارتی حل کے حامی گروہوں کے درمیان اختلافات سطح پر آگئے تھے۔
مستعفی ہونے والے اہلکار کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے امریکہ کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجی آپشن کے بجائے سفارت کاری پر توجہ دینے سے خطے میں امن و استحکام کے امکانات روشن ہوں گے۔
