
سرگودھا (رپورٹ بیورو طاہراشرف)سرگودھا صحافی ظہیر ہنجرہ کے ماموں محمد فیروز حجرہ جو فوت ہو گئے تھے ان کی نماز جنازہ میں علاقہ کے سیاسی سماجی شخصیت اور کاروباری ایم این اے ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹی مہر شاہد آرائیں فاروق بھٹی107 اس کا نماز جنازہ اس کے آبائی گاؤں 103جنوبی میں ادا ہوا نماز جنازہ میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس میں سیاسی سماجی اور علاقہ کے کاروباری اور علاقہ بھر سے شرکت کی نماز جنازہ 103جنوبی مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا اللہُ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء فرمائے آمین صحافی سلیم مغل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا سینیئر صحافی ظہیر حجرہ نے کہا موت کی حقیقت: زندگی کے ساتھ ساتھ چلنے والی ایک غیر مرئی ہستی کہتے ہیں موت کی عمر اتنی ہی ہے جتنی زندگی کی عمر ہے۔ پیدائش کے ساتھ ہی موت کا سفر شروع ہو جاتا ہے، یہ ایک ایسا سایہ ہے جو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ بچپن کے دن گزر جاتے ہیں مگر ہم اسے محسوس نہیں کرتے، جوانی پامال ہو جاتی ہے لیکن اس کا ادراک کم ہی ہوتا ہے۔ باپ، رشتے دار، دوست سب ہمارا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں، اور یہ سب موت کی مختلف صورتیں ہیں اصل موت وہ نہیں جب سانس رکے بلکہ جب زندگی کی رونقیں معدوم ہو جائیں، جب واقعات ختم ہو جائیں، عظیم بزرگ دنیا سے چلے جائیں، دوست دیس بدل لیں، اور قریبی رشتے اجڑ جائیں۔ ہمارا ماحول، عادات، مزاج، اور زندگی کا انداز بدل جاتا ہے، یہ سب بھی موت کے اَن کہے پہلو ہیں۔ آج جس سانس کو ہم زندہ رہنے کی نشانی سمجھتے ہیں، وہ محض ایک ڈوری ہے جو بھی کئی دنوں، مہینوں یا برسوں کے بعد کٹ سکتی ہےاللہ نے ہمیں زندگی دی ہے، اور ساتھ ہی موت کی،حقیقت،بھی دکھائی تاکہ ہم زندگی کو بہتر انداز میں جئیں۔ زندگی کے ہر لمحے کو قدر کریں کیونکہ موت کے بغیر زندگی کا وجود ناممکن ہے۔
